خطبات محمود (جلد 17) — Page 274
خطبات محمود ۲۷۴ سال ۱۹۳۶ رسول کریم ﷺ کو مدینہ منورہ کی ابتدائی زندگی میں ان دونوں جھوٹوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔آپ کو اہلِ مکہ کا بھی مقابلہ کرنا پڑا اور پھر آپ کو مدینہ میں جو منافقین کا گروہ تھا اس کا بھی مقابلہ کرنا پڑا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی تائید اور نصرت کر کے بتا دیا کہ خدا تعالیٰ جن کی مدد پر ہو اُن کے خلاف خواہ دشمن کی کتنی بڑی طاقتیں جمع ہو جائیں ذرہ بھر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ وہ ابدی زندگی پاتے اور مر کر بھی زندہ رہنے والے ہوتے ہیں پس ان کو کس قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔انسان کے کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں یہی کہ وہ ماردیں ، یہی کہ وہ جائدادیں چھین لیں ، یہی کہ وہ مار پیٹ لیں ، یہی کہ وہ گالیاں دیں اور اس طرح جذبات و احساسات کو صدمہ پہنچا ئیں مگر یہ سب عارضی چیزیں ہیں جن کی مؤمن پروا نہیں کر سکتا کیونکہ مؤمن کی جنت دائگی ہوتی ہے اور یہ عارضی نقصان ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی باغ کی شاخ تراشی کی جائے۔شاخ تراشی کے بعد درخت بر باد نہیں ہو جاتے بلکہ وہ بڑھتے اور زیادہ پھل لاتے ہیں۔اسی طرح مؤمن کو جب دُنیوی طور پر کوئی نقصان پہنچاتا ہے تو وہ اس کی تباہی کا موجب نہیں ہوتا بلکہ اس کی ترقی کا موجب بن جاتا ہے۔رسول کریم ﷺ کو کفار نے اگر گالیاں دیں، آپ کی عزت و آبرو پر حملہ کیا ، وطن سے نکالا اور قسم قسم کی نہ صرف ایذا ئیں دیں بلکہ ایذا ئیں ایجاد کیں تو کیا اس سے اشاعتِ اسلام میں کوئی روک واقع ہوگئی ؟ اسی طرح حضرت امام حسینؓ کے مقابلہ میں یزیدی طاقتوں نے گواتنی قوت کی پکڑی کہ انہوں نے آپ کو شہید کر دیا لیکن یزید آج بھی یزید ہے اور امام حسین آج بھی امام حسین کی کہلاتے ہیں۔ان کا نام لیتے وقت لوگ انہیں امام کہتے اور ان کی بادشاہت آج بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن یزید کی بادشاہت ایسی مٹی کہ آج کوئی اپنے بچوں کا نام یزید رکھنے کیلئے تیار نہیں۔یزید کی کیسا اچھا نام ہے اس کے معنے ہیں اللہ تعالیٰ بڑھاتا ہی چلا جائے۔ہمارے پنجاب میں لوگ اپنے بچوں کا نام اللہ ودھایا رکھتے ہیں جس کا عربی زبان میں اگر ہم ترجمہ کریں تو یزید ہی ہوگا مگر کوئی شخص اپنے بچہ کا یزید نام رکھنے کیلئے تیار نہیں ہوگا اللہ ودھایا نام رکھ لیں گے۔تو یہ نام باوجود اس کے کہ اس کے معنے بہت اچھے تھے بالکل ذلیل ہو گیا اور آج اس نام سے کوئی شخص اپنے آپ کو یا اپنی اولا د کوموسوم کرنے کیلئے تیار نہیں۔اگر کوئی یہ نام رکھتا بھی ہے تو اس کے ساتھ کوئی لفظ بڑھا دیتا ہے جیسے بایزید مگر صرف یزید کا لفظ مسلمانوں میں بالکل متروک ہے۔اس کے مقابلہ میں