خطبات محمود (جلد 17) — Page 270
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء اور دین کی تائید کیلئے اُٹھ رہے ہوتے اور ان مطالبات کے درمیان جو خدا تعالیٰ کی طرف۔قانونِ قدرت کے پورا کرنے کیلئے قائم کئے گئے تھے مگر ہم جو رسول کریم ﷺ کی امت اور صحابہ کا نمونہ ہونے کے مدعی ہیں کیا یہ ہمارا فرض نہیں کہ وہی جرات اور دلیری اپنے اندر پیدا کریں جو صحابہ کے اندر تھی۔آج قربانی پر ابھارنے کی بجائے اُسے روکنے والے آپ کو ملیں گے اور بہادری کے جذبات پیدا کرنے کی بجائے بعض لوگ اس پر بنتے ہیں مگر مؤمن ہنسی اور تمسخر کی کوئی پرواہ نہیں کیا کرتا وہ دنیا سے اندھا ہوتا ہے، اُس کی بینائی صرف خدا کو دیکھتی ہے، اس کے دل کی کی نظریں بلند اور ظاہری آنکھیں جھکی ہوئی ہوتی ہیں، اس کے نیکی کے کام کھلے ہوئے مگر بدی کے بند ہوتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کیلئے ہر قربانی کرنے کو عزت سمجھتا ہے اسے کامیابی سمجھتا ہے اور اسی کو نجات خیال کرتا ہے اور اس میں کچھ شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رستہ میں انسان کا قربان ہونا سب سے بڑی عزت ہے۔گو یہ لڑائی کا زمانہ نہیں مگر قربانیوں سے خالی نہیں۔بے شک آج ہمیں عَلَى الْإِعْلَان قتل نہیں کیا جاتا مگر احمدیت کیلئے آج بھی ہزاروں قسم کی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں۔ہمارا بائیکاٹ کیا جاتا ہے ، گالیاں دی جاتی ہیں، مارا پیٹا جاتا ہے اور جب تک جماعت میں سے ایک ایسا حصہ کھڑا نہ ہو جو بہادری اور وفاداری کا وہ نمونہ دکھائے جو دشمن کو بھی کھینچ لیتا ہے اُس کی وقت تک کامیابی کے قریب نہیں پہنچ سکتے۔بعض لوگ یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ ہمارے دائیں ہاتھ والا کیا کرتا ہے اور بائیں ہاتھ والا کیا کرتا ہے اور یہ نہیں دیکھتے کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں۔ہمیں اس سے کیا غرض کہ دائیں ہاتھ والا کیا کرتا ہے اور بائیں ہاتھ والا وفادار ہے یا نہیں۔کیا اگر ساری دنیا مرتد ہو جائے اور صرف ایک مؤمن رہے تو وہ اس لئے جان دینے سے دریغ کرے گا کہ اور کوئی اس کے ساتھ نہیں۔جن مواقع کی پر آنحضرت ﷺ نے اپنی جان کو خطرات میں ڈالا کیا یہ دیکھ کر ڈالا تھا کہ آپ کے دائیں کون ہے اور بائیں کون اور کس حد تک آپ کی مدد کریں گے ؟ کیا جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا تو یہ دیکھا تھا کہ میرے مؤید اور حامی کون کون ہیں؟ ایک دفعہ ایک مولوی صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اعتقاد رکھتے تھے یہاں آئے اور آپ سے کہنے لگے کہ آپ نے غلطی کی مولوی لوگ ضدی ہوتے ہیں جب آپ نے