خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 269

خطبات محمود ۲۶۹ سال ۱۹۳۶ باعث ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں چکیاں نہ تھیں پتھروں پر کوٹ کوٹ کر ہم آٹا بناتے تھے اور رسول کریم ﷺ کو وہی آٹا کھانے کو مانتا تھا۔بڑھاپے کی عمر میں اور اضمحلال کے وقت بھی آپ کی یہی کھاتے تھے اور اس پھلکے کی نرمی کو محسوس کر کے میرے دل میں حسرت پیدا ہوئی کہ کاش! رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایسا آٹا ہوتا تو میں اس کی روٹیاں پکا کر آپ کو کھلاتی ہے۔ذرا غور کرو نرم آٹا کون سی چیز ہے جسے آج قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔آج تو کنگال بھی اس کی قدر نہیں کرتے اور ان کو بھی آج اس سے بہت بہتر آٹا ملتا ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ علی عنہا کو ملا تھا۔آج تو رول ملوں کے آٹے غریب سے غریب لوگ کھاتے ہیں اور انہیں محسوس بھی کی نہیں ہوتا کہ یہ کوئی نعمت ہے۔اب نعمتوں نے اس آئے سے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے مگر کیا کبھی کسی کے دل میں یہ خیال آیا ہے کہ اسلام کے مصائب کی موجودگی میں ان کا استعمال مناسب نہیں۔ہم کہتے ہیں ہم اسلام کے سپاہی ہیں، محمد ﷺ کے فدائی ہیں، ہم کہتے ہیں کہ ہم خدا کے نام جی پر جانیں قربان کرنے والے ہیں مگر کیا ہمارے گلوں میں وہ نعمتیں کبھی پھنستی ہیں ؟ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خدا اور اس کے دین کی ہتک دنیا میں ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء کی توہین کرنے کی والے موجود ہیں مگر کیا دین کی اس انتہائی بے بسی کے باعث ہمارے گلوں میں بھی وہ نعمتیں پھنستی کی ہیں ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کھانے کا ڈھنگ بالکل نرالا تھا میں نے کسی اور کو اس طرح کی کھاتے نہیں دیکھا آپ پھلکے سے پہلے ایک ٹکڑا علیحدہ کر لیتے اور پھر لقمہ بنانے سے پہلے آپ اُنگلیوں سے اُس کے ریزے بناتے جاتے اور منہ سے سُبحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللهِ کہتے جاتے اور پھر ان میں سے ایک چھوٹا سا ریزہ لے کر سالن سے چھو کر منہ میں ڈالتے۔یہ آپ کی عادت کی ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ دیکھنے والے تعجب کرتے اور بعض لوگ تو خیال کرتے تھے کہ شاید آپ روٹی ہے میں سے حلال ذرے تلاش کر رہے ہیں لیکن دراصل اس کی وجہ یہی جذ بہ ہوتا تھا کہ ہم کھانا کھا رہے ہیں اور خدا کا دین مصائب سے تڑپ رہا ہے۔ہر لقمہ آپ کے گلے میں پھنستا تھا اور ہے سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللہ کہہ کر آپ گویا اللہ تعالیٰ کے حضور معذرت کرتے تھے کہ تو نے یہ چیز کی ہمارے ساتھ لگا دی ہے ورنہ دین کی مصیبت کے وقت ہمارے لئے یہ ہرگز جائز نہ تھا۔وہ غذا بھی ایک مجاہدہ معلوم ہوتا تھا، یہ ایک لڑائی ہوتی تھی ان لطیف اور نفیس جذبات کے درمیان جو اسلام