خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 250

خطبات محمود ۲۵۰ سال ۱۹۳۶ء حق یہ ہے کہ دنیا میں جتنے عظیم الشان کام کرنے والے انسان ہوئے ہیں وہ سب اسی ملیر یا والے ملک میں ہوئے ہیں کیونکہ اکثر معروف انبیاء ایشیاء میں ہوئے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی کی اسی ملیر یا زدہ علاقہ کے تھے، حضرت سلیمان علیہ السلام بھی اسی ملیر یاز دہ علاقہ کے تھے اور حضرت کی داؤد علیہ السلام بھی اسی ملیر یاز دہ علاقہ کے تھے اور حضرت عیسی علیہ السلام بھی اسی ملیر یاز دہ علاقہ کے تھے بلکہ حضرت کرشن ، حضرت رام چندر اور حضرت زرتشت بھی اسی علاقہ کے رہنے والے تھے۔تو اس میں کوئی شبہ نہیں ہمیں اپنی صحتوں کو درست کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے مگر مغرب کے کسی ڈاکٹر کا کوئی فقرہ سن کر اس کے پیچھے چل پڑنا بھی تو نادانی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اصل ملیر بہ وہ ہے جو دل سے پیدا ہوتا ہے اگر دل کا ملیر یا دور نہ ہو تو خواہ ظاہری طور پر انسان ملیر یاز دہ علاقہ میں نہ ہو پھر بھی سست اور کاہل رہ سکتا ہے۔چنانچہ یورپ میں بھی سست لوگ ہیں حالانکہ وہاں ملیر نہیں۔بڑے بڑے امراء ہوتے ہیں اور انہوں نے اپنا کام یہی سمجھا ہوا ہوتا ہے کہ اچھی اچھی غذائیں کھائیں ،شرا میں پیئیں اور تاش کھیلیں ان کو کونسا ملیر یا ہوتا ہے۔پس حقیقت یہ ہے کہ دل کا ملیریا ہی انسان کوست اور غافل کر دیتا ہے اور سستی اور غفلت ایسی چیز ہے کہ وہ قوم کو تباہ کر دیتی ، اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے انسان کو محروم کر دیتی اور نجات سے دور پھینک دیتی ہے۔میں نے بار بار جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ وہ سستی اور غفلت کو چھوڑے مگر مجھے افسوس ہے کہ جماعت نے ابھی تک اس پر عمل نہیں کیا۔مائیں اپنے بچوں کو سست رکھنا پسند کرتی ہیں مگر یہ پسند نہیں کرتیں کہ ان پر کام کا بوجھ پڑے ، باپ اپنے بچوں کوست رکھنا پسند کر۔ہیں مگر یہ پسند نہیں کرتے کہ انہیں کام کی عادت ڈالی جائے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کام نہ کرنے کی عادت ان میں پیدا ہو جاتی ہے اور اس عادت کا دور ہونا پھر بہت مشکل ہو جاتا ہے۔مثل مشہور ہے کہ کوئی شخص ہندو تھا جو بعد میں مسلمان ہو گیا ایک دن کسی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ کوئی لطیفہ کی بات ہوئی اس پر وہ جھٹ کہنے لگا رام رام۔رام رام۔کسی نے کہا یہ کیا بات ہے تم تو مسلمان ہو تمہیں رام رام کی بجائے اللہ اللہ کہنا چاہئے تھا۔وہ کہنے لگا اللہ اللہ داخل ہوتے ہی داخل ہو گا اور رام رام کی نکلتے ہی نکلے گا۔پرانی عادت پڑی ہوئی ہے اس لئے زبان سے رام رام ہی نکل جاتا ہے۔تو ہستیاں ور غفلتیں اگر کسی قوم میں عادت کے طور پر داخل ہو جائیں تو اس قوم کو کم از کم یہ چاہئے کہ اپنی اولا دوں اور