خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 164

خطبات محمود ۱۶۴ سال ۱۹۳۶ء کو نبی نہ سمجھیں مگر ولی اللہ اور خدا رسیدہ انسان ہونے کی حیثیت میں ان کا ادب اور احترام کریں اور کوئی ایسا لفظ استعمال نہ کریں جو ان کی شان کے خلاف ہو۔پس اِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ سے ایک ہی قوم باہر رہ جاتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس قوم کے بانی کے متعلق بھی ثابت کر دیا کہ وہ ایک خدا رسیدہ بزرگ تھے اور اس طرح ان کے متعلق بھی ادب اور احترام کے کی جذبات رکھنے پر ہم مجبور ہیں مگر کسی قوم کے ایسے لیڈر جو نہ نبی ہیں نہ ولی ان کے متعلق بھی ہماری شریعت یہ حکم دیتی ہے کہ ہم انہیں برا بھلا نہ کہیں اور اگر ہم ان کو گالیاں دیں تو ہم خود اس بات کے محرک بنتے ہیں کہ وہ ہمارے بزرگوں کو گالیاں دیں۔رسول کریم ﷺ نے اس کا ایک نہایت ہی لطیف مثال میں ذکر فرمایا۔آپ نے ایک دفعہ صحابہ سے کہا بہت ہی ملعون ہے وہ شخص جو اپنی ماں کو گالی دے۔صحابہ نے عرض کیا یارَسُولَ اللهِ! کوئی شخص اپنی ماں کو کس طرح گالی دے سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا جب کوئی شخص کسی دوسرے کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ جواب میں اس کی ماں کو گالی دیتا ہے تو گویا یہ اپنی ماں کو آپ گالی دیتا ہے ہے۔تو ہمارے مذہب کی تعلیم یہ ہے کہ بانیانِ مذاہب کے علاوہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے جن لوگوں کو تم نبی اور رسول یا خدا رسیدہ نہیں سمجھتے ان کا بھی احترام کرو اور انہیں گالیاں مت کی دو۔بے شک جائز تنقید کا دروازہ کھلا ہے ان کی غلطیوں کے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ، ان کے سامنے اچھی بات پیش کرنے کی ممانعت نہیں کیونکہ اگر اس کی اجازت نہ ہو تو تبلیغ نہیں ہوسکتی۔لیکن سخت الفاظ کی اجازت نہیں سوائے اس کے کہ جوابی رنگ میں ہوں اور میں بار ہا بتا چکا ہوں اور اس خطبہ کے شروع میں بھی اشارہ کر چکا ہوں کہ ہم نے عملاً ان باتوں کو کر کے دکھا دیا ہے۔حکومت کے بارے میں کیسے کیسے خطر ناک حالات میں سے ہم گزرے ہیں مگر کس صفائی کے ساتھ۔نہ صرف حکومت کے خلاف کسی قسم کی بغاوت میں حصہ لینے سے ہم نے اپنے آپ کو بچایا بلکہ دوسروں کے کو بھی محفوظ رکھا۔آج اگر حکومت بھول گئی ہو تو بھول جائے کیونکہ بعض لوگوں کا حافظہ خراب ہوتا ہے اور وہ باتوں کو پوری طرح یاد نہیں رکھ سکتے مگر اب بھی قریب وہ سب افسر موجود ہیں جو ۱۹۱۴ ء کی لڑائی کے ایام میں موجود تھے وہ تھوڑی دیر کیلئے اپنے مخالف جذبات کو دبا کر اُن دنوں کو یاد کریں