خطبات محمود (جلد 17) — Page 163
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء کہ وہ دوسروں کے متعلق دل آزار کلمات استعمال کریں۔کتابیں لکھنے والے مالدار نہیں ہوتے بلکہ کی اکثر غریب ہوتے ہیں اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ کتاب چھپوا کر انہیں مالی لحاظ سے بھی گھاٹا رہاتی اور دوسری طرف نہ قوم میں عزت رہی نہ غیروں پر اثر رہا تو وہ اپنی غلطی کا اقرار کر لیتے ہیں اور اس طریق کو بالکل چھوڑ دیتے ہیں۔اگر یہی طریق ہندو اختیار کرتے ، اگر یہی طریق عیسائی اختیار کرتے اور اگر یہی طریق دوسری اقوام اختیار کرتیں تو نہ کسی قانون کی ضرورت تھی نہ حکومت کے انتظام کی ضرورت تھی ، نہ بدنظمی پیدا ہوتی ، نہ بدمزگی واقع ہوتی ، نہ شور اور فساد پیدا ہوتا ، سب بھائی بھائی بن کر رہتے اور فتنہ و فساد سے مجتنب رہتے۔لیکن چونکہ دوسرے مذاہب اور دوسری اقوام کی طرف سے یہ طریق اختیار نہیں کیا جاتا اس لئے آپس میں بغض اور کینہ بھی ترقی کرتا رہتا ہے لیکن ہماری جماعت ہمیشہ امن کے قیام کیلئے اس قسم کی حرکات پر سختی سے نوٹس لیتی ہے اور ان کے انسداد کی پوری کوشش کرتی ہے۔پھر تبلیغی ضرورتوں کے علاوہ ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جو قرآن مجید میں موجود ہے اور ی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر خاص زور دیا ہے کہ دنیا کی تمام قوموں کے بزرگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِن مِنْ اُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ ل - دنيا كى کوئی قوم ایسی نہیں جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نذیر نہ آیا ہو۔اس تعلیم کے بعد کس طرح ممکن ہے کہ ہم دوسری اقوام کے بزرگوں کو بُرا بھلا کہ سکیں۔چونکہ رسول کریم ہے کے بعد اسلام کے باہر کوئی نبی نہیں آسکتا تھا اس لئے صرف سکھوں کا سوال رہ جاتا تھا ان کے متعلق حضرت کی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتادیا کہ ان کے بانی حضرت باوا نا تک صاحب ایک مسلم بزرگ تھے اور جو بزرگ اور ولی اللہ ہو اس کے خلاف کوئی احمدی اپنی زبان کس طرح کھول سکتا ہے۔جب ہم حضرت با وا نا نک رحمتہ اللہ علیہ کو ایک ولی اللہ تسلیم کرتے ہیں تو ان پر الزام لگانے اور ان کی عیب شماری کرنے کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے دوست بھی نَعُوذُ بِاللهِ بُرے ہوتے ہیں اور چونکہ بُروں کے دوست بھی بُرے ہوا کرتے ہیں اس لئے حضرت باوا نانک صاحب کی کی عیب شماری کرنے کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرتے ہیں۔پس اس تعلیم کے ماتحت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دی ہم مجبور ہیں کہ گو حضرت باوا صاحب