خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 160

خطبات محمود 17۔سال ۱۹۳۶ء دل نہ بھی چاہے، خواہ بعض ہم میں سے جوش کی حالت میں اپنی عقل و خرد کو چھوڑ کر یہ ارادہ بھی کر لیں کہ حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں ، کہ اس ارادہ کو عمل کا جامہ نہ پہنائیں۔دوسری بات جو ہمیں پُر امن رہنے پر مجبور کرتی ہے وہ ہمارے اور دوسری رعایا کے تعلقات ہیں۔پہلی وجہ میں حکومت کے اور ہمارے تعلقات تھے جن میں مذہب نے ہمیں پابندِ امن کر دیا ہے لیکن دوسری وجہ وہ احکام ہیں جو رعایا اور رعایا کے آپس کے تعلقات کے متعلق ہیں ان کی احکام میں بھی آپس میں محبت اور پیار سے رہنے کی تعلیم دی گئی ہے لیکن ان کے علاوہ ایک اور وجہ بھی ہے کہ ہم امن شکنی نہیں کر سکتے کیونکہ علاوہ مذہبی تعلیم کے مصلحتیں اور ضرورتیں بھی ہمیں مجبوری کرتی ہیں کہ ہم امن شکنی نہ کریں۔یعنی اگر ہم میں سے کوئی کمزور شخص مذہب کی حکومت سے کسی وقت انکار بھی کر دے تو وہ ضرورتا اس بات پر مجبور ہے کہ امن شکنی نہ کرے اور وہ ضرورت یہ ہے کہ ہم ایک تبلیغی جماعت ہیں۔ہم نے اپنا یہ فرض مقرر کیا ہوا ہے اور دوسروں کو ہم اس بات کی عادت ڈالتے ہیں کہ وہ جائیں اور غیر احمدیوں کو تبلیغ کریں۔ہم مسلمانوں کو بھی تبلیغ کرتے ہیں ، ہم ہندوؤں کو بھی تبلیغ کرتے ہیں، ہم سکھوں کو بھی تبلیغ کرتے ہیں ، ہم عیسائیوں کو بھی تبلیغ کرتے ہیں اور اسی طرح ہر اُس قوم کو ہم تبلیغ کرتے ہیں جو ہمارے سامنے آ جاتی ہے۔اب ایک تبلیغی جماعت کی کیلئے یہ بالکل ناممکن ہے کہ وہ لوگوں سے لڑے کیونکہ اگر وہ لڑے تو تبلیغ نہیں کر سکے گی۔اگر ہم تی اپنے افعال کی وجہ سے مسلمانوں کو برانگیختہ کر دیں، اگر ہم اپنے افعال کی وجہ سے ہندوؤں کو برانگیختہ کر دیں ، اگر ہم اپنے افعال کی وجہ سے سکھوں کو برانگیختہ کر دیں اور اگر ہم اپنے افعال کی کی وجہ سے عیسائیوں کو برانگیختہ کر دیں تو بتاؤ تبلیغی میدان ہمارے لئے کونسا رہ جاتا ہے۔پس اگر ہم میں سے کوئی شخص اس مذہبی حکم کا قائل نہ بھی ہو تو تبلیغی ضرورتوں کی وجہ سے وہ اس بات کیلئے مجبور ہے کہ غیر جماعتوں سے اچھے تعلقات رکھے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو اس کی خلاف ورزی کرنے والا نہیں۔ہر قوم میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں اور بُرے بھی اور ای بُرے لوگوں کو روکنا کوئی آسان بات نہیں۔ہماری جماعت میں بھی بعض لوگ ایسے ہیں جو بعض اوی دفعہ تقریروں کے ذریعہ یا تحریروں کے ذریعہ سخت کلامی کرتے ہیں مگر وہ سخت کلامی یا تو کسی انتہائی غفلت کی حالت میں ہوتی ہے یا عادتاً ہوتی ہے۔اور جو شخص عادتا سخت کلامی کرتا ہے وہ بھی اپنی