خطبات محمود (جلد 17) — Page 159
خطبات محمود ۱۵۹ سال ۱۹۳۶ء وجہ سے ہماری جماعت کبھی بھی اُن کاموں کو اختیار نہیں کرسکتی جو فتنہ اور فساد کا موجب ہوں۔پھر اس امن پسندی کی طرف متوجہ کرنے کیلئے ہمارے پاس بعض اور قومی وجوہ بھی موجود ہیں جن کے ما تحت امن شکنی ہمارے لئے کسی صورت میں جائز نہیں۔پہلی وجہ یہ ہے کہ ہماری مذہبی تعلیم یہ ہے کہ کسی حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے اُس کے خلاف فتنہ وفساد کھڑا کرنا جائز نہیں۔ہم نے اس مسئلہ کی وجہ سے بڑی بڑی تکلیفیں اُٹھائی ہیں۔ہمارے اپنے بھائیوں نے اس مسئلہ کی وجہ سے ہمیں کا فرقرار دیا بلکہ آدم حریت و آزادی کا پیغام دینے کا مدعی ڈاکٹر اقبال بھی ہمارے خلاف یہ الزام لگا تا ہے کہ ہم جہاد کے خلاف تعلیم دے کر مسلمانوں کو کمزور کرنے کا موجب ہیں اور دوستی کے پردہ میں ان سے دشمنی کرتے ہیں۔پس ہمارے اس عیب اور گناہ کی تصدیق پرانے علماء نے بھی کر دی اور جدید فلسفیوں نے بھی کر دی گویا مغرب اور مشرق دونوں جمع ہو گئے ہمیں مجرم قرار دینے کیلئے ، اس بناء پر اور اس گناہ کی وجہ سے کہ کیوں ہم نے مسلمانوں کو امن پسندی کی تعلیم دی ہے۔قوم کی مخالفت کوئی معمولی مخالفت نہیں ہوتی۔نہ صرف اس میں ہر قسم کا جسمانی دُکھ انسان کو برداشت کرنا پڑتا ہے بلکہ دل کا دُکھ بھی اس کے ساتھ شریک ہوتا ہے۔اسلام بے شک انسان کو بہا در بنا دیتا ہے، اسلام بے شک انسان کے دل میں جرات پیدا کر دیتا ہے لیکن اسلام انسان کے جذبات کو مارتا نہیں بلکہ انہیں ابھارتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ خواہ کوئی بھی حق کی مخالفت کرے ، اپنے ہوں یا غیر مؤمن ان کی پرواہ نہیں کر مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ کسی فعل کی وجہ سے خواہ وہ حق کی حمایت ہی کیوں نہ ہو اگر وہ اپنے کی عزیزوں ، اپنے رشتہ داروں ، اپنے ہمسایوں اور اپنے ہم قوموں سے علیحدگی اختیار کرے تو طبعی طور پر اسے صدمہ ضرور ہوتا ہے اور ہونا چاہئے۔پس یہ کوئی کھیل نہ تھا جو ہم کھیلے اور یہ کوئی معمولی بات ہے نہ تھی کہ ہم نے تمام مسلمانوں کو اپنا اس لئے دشمن بنالیا کہ ہم فتنہ و فساد کے خلاف تعلیم ان میں پھیلاتے ہیں مگر یہ دُکھ ہم نے اُٹھایا، یہ تکلیف ہم نے سہی، یہ مصیبت ہم نے برداشت کی لیکن حق کو نہیں چھوڑا بلکہ ہم ہمیشہ امن پسندی کی تعلیم لوگوں کو دیتے رہے۔حکومت کے ریکارڈ اس کے گواہ ہیں ،حکومت کے اعلانات اس کے گواہ ہیں اور حکومت کی چٹھیاں اس کی گواہ ہیں۔پس مذہب کی حکومت سب سے بڑی حکومت ہے اور اس کے حکم کے ماتحت ہم مجبور ہیں خواہ ہم میں سے بعض کا