خطبات محمود (جلد 17) — Page 144
خطبات محمود ۱۴۴ سال ۱۹۳۶ء دُکاندار خود اس قسم کی حرکات نہ کرتے ہوں اور باہر سے بے احتیاطی سے اسی قسم کا ناقص مالی لاتے ہوں لیکن اس صورت میں بھی وہ بری نہیں ہو سکتے کیونکہ اگر کوئی شخص جاتا ہے اور رہٹ والے سے گندہ آٹالا تا ہے تو یہ اسی کا قصور ہے۔اگر گندہ آٹا تھا تو یہ کیوں لایا۔اسے چاہئے تھا نہ لاتا اور اگر یہ ناقص مال سمجھ کر سستا لے آیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ بلا واسطہ فائدہ اُٹھاتا ہے۔مثلاً دوسری جگہ سے اچھا آٹا خرید تا تو اس کے ایک سو ایک روپے خرچ ہوتے لیکن جس رہٹ والے سے اس نے خریدا اسے سو روپے دینے پڑے تو اس صورت میں بھی یہ ٹھگ ہے کیونکہ یہ دوسرے کی ٹھگی میں شریک ہوتا ہے۔پس اگر اس قسم کی ٹھگی یہ خود نہیں کرتا بلکہ باہر سے ناقص سودا لا تا اور بیچتا ہے تو بھی یہ ویسا ہی ٹھگ ہے جیسے اپنے ہاتھ سے آٹے میں مٹی ملانے والا۔ولایت میں کئی چوری ایسے ہیں جو یتیم بچوں کی پرورش کرتے اور پھر ان کے ذریعہ چوریاں کرواتے ہیں۔کیا تم سمجھتے ہو وہ یتیم بچوں کے ذریعہ چوریاں کروانے کی وجہ سے کم چور ہیں اور اگر خود چوری کرتے تو زیادہ چور ثابت ہوتے ؟ وہ ویسے ہی چور ہیں جیسے اپنے ہاتھ سے چوریاں کرنے والے۔اسی طرح جب تم رہٹ والے سے ناقص آٹا لاتے اور یہ سمجھتے ہو کہ وہ خراب ہے تو تم بھی ویسے ہی مجرم ہو جیسے اپنے کی ہاتھ سے آٹے میں مٹی یا ریت ملانے والا۔جب تم امرتسر کی منڈی سے مصری اور آٹا وغیرہ خرید کر لاتے ہو تو کیا وجہ ہے تمہیں وہ مٹی کے دانے نظر نہیں آتے جو ہمیں نظر آتے ہیں۔آخر خراب سو دالانے کی یہی وجہ ہے کہ وہ تمہیں ستا مل جاتا ہے پھر تم کیوں ویسے ہی فریبی نہیں جیسے وہ جو اپنے ہاتھ سے مصری اور آٹا مٹی ڈال کر خراب کرتے ہیں۔کئی لوگ بظاہر دیانتدار بھی ہوتے ہیں اور وہ مٹی نہیں ملاتے لیکن جب گیہوں کو صاف کرنے کیلئے زمین پر پھیلاتے ہیں تو پھر انہیں سمیٹتے کی وقت جب جھاڑو دیں گے تو پاؤ یا سیر کے قریب اس میں مٹی بھی ملا دیں گے اور اپنی طرف سے یہ سمجھیں گے کہ ہم تو بڑے دیانتدار ہیں مگر وہ بھی دیانتدار نہیں کیونکہ وہ ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں لوگوں سے دھوکا اور فریب ہو جاتا ہے۔پس میں دونوں فریق کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اسلامی طریق اختیار کریں۔خریداروں کو بھی چاہئے کہ وہ دھوکا سے دُکانداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کریں اور دکانداروں کو بھی چاہئے کہ وہ گا ہکوں کو فریب سے گندی چیزیں نہ دیں۔اسی طرح نوکروں کو بھی چاہئے کہ وہ دیانتداری سے اپنے فرائض ادا کریں اور