خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 127

خطبات محمود ۱۲۷ سال ۱۹۳۶ء جس رنگ میں تحقیقات کا حکم دیتا اور جو سزا اس کیلئے تجویز کرتا ہے وہ مسلمانوں کے اختیار میں نہیں بلکہ حکومت کے اختیار میں ہے اور اس طرح ہم موجودہ دور میں ایسے حالات میں گھرے ہوئے ہیں کہ اسلامی تعلیم کے بعض حصوں کو پورا کرنے کا اختیار نہیں رکھتے مگر اور بہت سے حصے ایسے ہیں جو باوجود اس کے کہ نظام سے تعلق رکھتے ہیں حکومت نے ان سے اپنا ہاتھ کھینچ رکھا ہے اور لوگوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ جس رنگ میں چاہیں ان امور کا آپس میں فیصلہ کرلیں۔مثلاً مقدمات کا ایک حصہ ایسا ہے جس کے متعلق حکومت کہتی ہے کہ اسے ضرور ہمارے پاس لاؤ لیکن ایک حصہ ایسا بھی ہے جس میں وہ کہتی ہے کہ اس کا ہمارے پاس لا نا یا نہ لا نا تمہاری مرضی پر منحصر ہے۔اگر تم چاہو تو ان مقدمات کو ہمارے پاس لے آؤ اور اگر نہ چاہو تو نہ لاؤ۔ایسے تمام معاملات اور اختیارات میں جن میں حکومت دخل نہیں دیتی اور اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کی لوگوں کو اجازت دیتی ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان امور کا اسلامی تعلیم کے مطابق فیصلہ کریں۔کیونکہ کوئی وجہ نہیں کہ جب حکومت نے ان امور میں دخل اندازی پسند نہیں کی اور ہماری مرضی پر چھوڑ دیا ہے ہم ان کا فیصلہ اسلامی تعلیم کے مطابق نہ کریں۔ایسے بیسیوں معاملات ہیں جن کے متعلق ہم صحیح اسلامی حکومت کا نقشہ قائم کر سکتے ہیں۔مثلاً زکوۃ کا مسئلہ ہے زکوۃ انگریزی حکومت نہیں لیتی اور نہ کسی کو زکوۃ دینے پر مجبور کرتی ہے اور چونکہ انگریزی حکومت اس میں دخل نہیں دیتی ہی اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ اگر مسلمانوں میں نظام موجود ہو تو وہ زکوۃ لے کر اسلامی طریق کے ماتحت اس کی تقسیم کا انتظام نہ کریں۔وہ اگر چاہیں تو ایسے امور میں اسلامی طریق اور شریعت کے مطابق ی کام کر سکتے ہیں اور جس حد تک وہ اسلامی تعمیر کو مکمل کر سکتے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اسے مکمل کریں کیونکہ سارے اختیارات تو انہیں حاصل نہیں اس لئے یہی ہو سکتا ہے کہ جن امور میں حکومت دخل نہیں دیتی اور انہیں حسب منشاء کام کرنے کا اختیار دیتی ہے ان میں وہ اسلامی تعلیم کے مطابق فیصلے کریں۔یہی چیز ہے جسے شروع خلافت سے میں نے اپنے مد نظر رکھا ہے اور جس کی وجہ سے تھی میں اپنوں کی نگاہ میں بھی کئی دفعہ بدنام ہوا ہوں اور غیروں کی نگاہ میں بھی۔غیر بھی مجھے کہتے ہیں کہ یہ اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے اور اپنے بھی کئی دفعہ جب انہیں ضرر پہنچتا ہے کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ اپنی حکومت قائم کر رہا ہے حالانکہ میں اپنی نہیں بلکہ اسلام کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہوں