خطبات محمود (جلد 17) — Page 126
خطبات محمود ۱۲۶ سال ۱۹۳۶ء مقابلہ نہ کیا جائے تو پھر مذہب دنیا میں باقی ہی نہیں رہ سکتا۔اسی لئے اسلام نے حکم دیا ہے کہ جب ی اس قسم کے حالات پیدا ہو جا ئیں تو غیر مسلموں کا مقابلہ کرو مگر یہ مقابلہ اُسی وقت ہوسکتا ہے جب مسلمانوں کے پاس ایک جتھہ ہو اور ان میں نظام پایا جاتا ہو۔اگر ان کے پاس جتھہ نہیں اور اگر ان میں نظام نہیں اور انفرادی طور پر ایک ایک مسلمان دشمن کے مقابلہ کیلئے جائے گا تو وہ ہلاک ہو جائے گا اور اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔پس جہاد بھی ان احکام میں سے ہے جن میں ایک جتھہ اور نظام کی ضرورت ہے تا مسلمان یکجائی طور پر ایک ظالم حکومت یا ظالم قوم کا مقابلہ کر سکیں افراد اس حکم کو کما حقہ نہیں بجالا سکتے۔پھر اسلام کے جو احکامات حکومت اور جتھہ اور نظام سے تعلق رکھتے ہیں وہ آگے تین قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو گلی طور پر حکومت کے اپنے اختیار میں ہوتے ہیں اور ایک وہ جو گلی طور پر نظام کے اختیار میں ہوتے ہیں اور ایک وہ جو اپنی مرضی پر منحصر ہوتے ہیں۔خواہ حکومت انہیں اپنے قبضہ میں رکھے خواہ اقوام کو آزاد چھوڑ دے۔کلی طور پر حکومت کے قبضہ میں رہنے والے اختیارات کی مثال ایسی ہی ہے جیسے قاتل کو قتل کی سزا دینا۔یہ کلی طور پر حکومت کے قبضہ میں ہے اور کوئی شخص کسی کو اس لئے قتل نہیں کر سکتا کہ اس کے علم میں وہ یقینی طور پر قاتل ہے کیونکہ قاتل کا علم اسے قتل کی سزا دینے کا اختیار نہیں دے دیتا یہ پورے طور پر حکومت کے اختیار میں ہے اور وہی اس اختیار کے ماتحت قاتل کو گرفتار کر کے اسے سزا دے سکتی ہے اور اگر کوئی حکومت قاتل کو قتل نہیں کرتی تو بے شک وہ ظلم کرے گی لیکن وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوگی۔بندوں کا یہ کام نہیں کہ وہ آپ ہی آپ قاتل کی تحقیق کر کے اسے سزا دے دیں یا مثلاً چوری کی سزا موجودہ قانون میں قید ہے یہ سزا بھی حکومت نے اپنے قبضہ میں رکھی ہوئی ہے اور کسی دوسرے کا یہ حق نہیں کہ وہ خود بخود کسی چور کو چوری کی سزا دے دے۔اب جو نظام سے تعلق رکھنے والے احکام ہیں ہمارے لئے ان میں ایک مشکل پیدا ہو رہی ہے اور وہ یہ کہ اس زمانہ میں ہم پر جو حکومت ہے وہ غیر مسلم ہے اور اس کا نظام بعض جرائم کی اور سزا دیتا ہے اور اسلامی نظام ان جرائم کی اور رنگ میں سزا تجویز کرتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ لازمی طور پر اسلامی تعلیم کی ایک شق باطل رہتی ہے۔مثلاً اسلام ایک قاتل کے متعلق جس رنگ میں تحقیقات کا حکم دیتا اور جو سزا اس کیلئے تجویز کرتا ہے یا ایک چور کے متعلق