خطبات محمود (جلد 17) — Page 116
خطبات محمود ۱۱۶ سال ۱۹۳۶ء ظاہری ہتھیار تو ہمارے پاس ہیں نہیں حتی کہ تلوار میں بھی نہیں گجا یہ کہ مشین گنیں میگزینیں اور بندوقیں ہوں اس لئے ہمارے واسطے اب وہی ہتھیار باقی ہے جو مومنوں کا ہوتا ہے اور وہ صداقت اور ایمان کا ہتھیار ہے سچائی کے ہتھیار کے سامنے تو ہیں بالکل بیکار ہو جاتی ہیں۔ایک شخص دوسرے پر توپ کا فائر اس لئے کرتا ہے کہ وہ اس کا دشمن ہے لیکن اگر وہ سچائی سے اسے دوست بنالے تو وہی توپ اس کی ہو جائے گی۔اس لئے میں نے جماعت کو پچھلے سال بھی توجہ دلائی تھی کہ صداقت کے ہتھیار کو استعمال کریں۔آپ لوگوں میں سے ہر ایک یہ فیصلہ کر لے کہ خواہ کی کچھ ہو وہ سچائی کو کام میں لائے گا مگر مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک ہم وہ معیار صداقت قائم نہیں کر سکے جس کے ساتھ دلوں کو مسخر کیا جاتا ہے۔ادھوری صداقت تو اور بھی اُکسا دیتی ہے اس لئے کی کہ سچائی کامل چاہئے۔میں نے دیکھا کہ مختلف نو جوانوں کو جو کام سپرد کئے جاتے ہیں ان میں بالعموم دیانت کا وہ معیار پیش نہیں کرتے جس کی ان سے امید رکھی جاتی ہے۔مؤمن کا دل اتنا وسیع ہونا چاہئے کہ صداقت اور دیانت اس کے اندر انتہائی درجہ کی ہو اور یہی اس کا ہتھیار ہونا چاہئے۔بغیر ہتھیاروں کے دنیا میں فتح نہیں ہو سکتی اور ہتھیاروں کے لحاظ سے دنیا اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ تمہارے پاس اتنے سامان ہی نہیں ہیں کہ ان سے کام لے سکو۔فرض کرو آج انگریز ہمیں اجازت بھی دے دیں کہ تم ہوائی جہاز اور بحری جہاز اور دوسرے سامان رکھ سکتے ہو تو کیا ہم انہیں خرید سکتے ہیں؟ ایک بڑا جہاز آٹھ کروڑ روپیہ تک تیار ہوتا ہے اور ظاہر ہے ہم ایک جہاز بھی نہیں بنا سکتے۔ہوائی جہاز جو اچھے لڑنے والے ہوتے ہیں وہ تین ی لاکھ سے دس لاکھ تک کے ہوتے ہیں۔پس ظاہری ہتھیاروں کی اگر حکومت اجازت بھی دے دے تو ہماری جماعت ان سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتی۔ممکن ہے ہندو اور سکھ فائدہ اُٹھاسکیں کیونکہ وہ مالدار اور جتھے والے ہیں مگر ہم نہیں اُٹھا سکتے اس لئے ہم کیوں نہ وہی ہتھیار استعمال کریں جو ہمارے مناسب حال بھی ہے اور جسے اور کوئی اختیار نہیں کرسکتا۔صداقت اور دیانت کا ہتھیار ہی تھا جسے رسول کریم ﷺ نے شدید سے شدید دشمنوں کی کے مقابلہ پر استعمال کیا اور قرآن کریم میں ہے کہ آپ نے فرما یا فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمُ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ سے میں اس سے پہلے تم لوگوں میں عمر کا ایک حصہ گزار چکا ہوں تم کیوں عقل نہیں