خطبات محمود (جلد 17) — Page 115
خطبات محمود ۱۱۵ سال ۱۹۳۶ء لوگ بیہوش ہو جاتے ہیں یا پاگل ہو جاتے ہیں۔دل پر اتنا خوف طاری ہوتا ہے کہ ڈر سے انسان پاگل ہو جاتا ہے۔بڑے بڑے جری اور دلیر بھی اس کیمیاوی اثر کے نیچے پاگلوں کی طرح دوڑتے پھرتے ہیں۔کئی لوگ بالکل ہی پاگل ہو جاتے ہیں اور عام طور پر بھی دس بارہ گھنٹے تک اس کا اثر رہتا ہے اور اب اس سے بھی زیادہ ترقی ہو رہی ہے اور ایسے سامان نکل رہے ہیں کہ تمام ملک کی خوراک، پانی اور ہوا کو زہریلا کر دیا جائے تمام ملک میں ٹائیفائیڈ ، پلیگ یا ہیضہ کے کیڑے پھیلا دیئے جائیں اور نہ معلوم دنیا ان میں ابھی کہاں کہاں تک ترقی کرے گی۔سوال صرف یہ ہے کہ ہم جنہوں نے ساری دنیا سے مقابلہ کرنا ہے ہمارے پاس کیا ہتھیار ہے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ صرف وہی غالب آتے ہیں جن کے پاس ہتھیار غالب ہوں اور ہمت و قربانی کی روح ہو۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہمت اور قربانی کی روح ہم میں موجود ہے مگر یہ ہتھیاروں کا قائم مقام نہیں ہوسکتی۔بے شک قربانی کی روح بھی ایک حد تک ہتھیار کا کام دے جاتی ہے مگر انتہاء کو پہنچ کر۔حضرت سید اسماعیل صاحب شہید نے جو حضرت سیّد احمد صاحب بریلوی کے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قبل کی صدی کے مجدد تھے مرید تھے اور نہایت روحانی آدمی تھے، پشاور کے علاقہ میں سکھوں پر حملہ کیا۔آپ کے ساتھ صرف پانچ سو آدمی تھے اور سکھوں کی فوج بہت کی زیادہ تھی۔پھر سکھوں کے پاس تو ہیں تھیں مگر ان کے پاس کوئی توپ نہ تھی لوگوں نے اُن سے کہا بھی کہ یہ لڑائی بے فائدہ ہے مگر انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں اگر ہم مارے بھی گئے تو جنت میں جائیں گے۔پھر انہوں نے اپنے آدمیوں کو سو سو یا پچاس پچاس گز کے فاصلے پر پھیلا دیا اور حکم دیا کہ تم اس طرح دوڑو کہ مین توپ خانہ پر جا کر جمع ہو جاؤ۔اب توپ کا گولہ اگر مارتا بھی تو صرف اُس ایک آدمی کو جو اُس کی زد میں ہوتا۔اس طرح وہ تمام مجاہدین سکھوں کے توپ خانہ پر جا پڑے اور تلوار میں کھینچ کر اُن کو حکم دیا کہ توپوں کا منہ اپنی فوجوں کی طرف موڑ کر چلاؤ ورنہ قتل کر دیا جائے کی گا۔تو پچیوں نے جان کی خاطر ایسا ہی کیا۔تو بے شک بعض حالات میں ایمان ایسا ترقی کر جاتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں ہتھیار بن جاتا ہے لیکن جب تک کسی نہ کسی قسم کا ہتھیار نہ ہو دشمن کے مقابلہ میں کامیابی محال ہے۔