خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 829 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 829

خطبات محمود ۸۲۹ سال ۱۹۳۵ء اُن کے ساتھ اگر ایسی کھیلوں میں دوست مل جائیں یا کوئی اُستاد ہی مل جائے تو اُن کی زندگی کے تباہ ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔جس وقت فٹ بال کی کھیل میں مقابلہ ہوتا ہے یا کرکٹ میں مقابلہ ہوتا ہے یا تاش میں مقابلہ ہوتا ہے تو بچے لذت محسوس کرتے ہیں کیونکہ انسان کو ترقی دینے کیلئے اللہ تعالیٰ نے فطرت میں یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ مقابلہ میں دلچسپی لیتی اور لذت محسوس کرتی ہے۔اگر کبھی چوری کے مقابلہ کی عادت ڈال دو تو تھوڑے ہی دنوں میں تم دیکھو گے کہ چوریاں زیادہ ہونے لگی ہیں اور لوگوں نے چوری میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔یہی مقابلہ کی روح ہے جو تاش وغیرہ کھیلوں کے ذریعہ بچوں کی زندگی برباد کر دیتی ہے غرض تم کسی شہر میں ایک آوارہ کو چھوڑ دو وہ چونکہ بیکار ہو گا اس لئے اپنی بریکاری کو دور کرنے کے لئے کوئی کام نکالے گا کیونکہ انسان اگر فارغ بیٹھے تو تھوڑے ہی دنوں میں پاگل ہو جائے لیکن چونکہ وہ محنت سے جی چراتا ہے اس لئے بجائے کوئی مفید کام کرنے کے ایسے کام کرتا ہے جن میں اُس کا دن بھی گزر جاتا اور جی بھی لگا رہتا ہے۔کہیں تاش شروع ہو جائیں گے، کہیں شطرنج کھیلی جائے گی ،کہیں گانا شروع ہو جائیگا، کہیں بانسریاں بجنی شروع ہو جائیں گی، کہیں سارنگیاں اور پھر طبلے بجنے لگ جائیں گے یہاں تک کہ اسے ان چیزوں کی عادت ہو جائے گی اور ان سے پیچھے ہٹنا اس کے لئے ناممکن ہو جائے گا۔۔وہ بظاہر ایک آوارہ ہو گا مگر در حقیقت وہ مریض ہو گا طاعون کا ، وہ مریض ہو گا ہیضے کا جو نہ صرف خود ہلاک ہو گا بلکہ ہزاروں اور قیمتی جانوں کو بھی ہلاک کرے گا۔پھر اُس سے متاثر ہونے والے متعدی امراض کی طرح اور لوگوں کو متاثر کریں گے اور وہ اور کو یہاں تک کہ ہوتے ہوتے ملک کا کثیر حصہ اس لعنت میں گرفتار ہو جائے گا۔پس بریکاری ایسا مرض ہے کہ جس علاقہ میں یہ ہو اُس کی تباہی کے لئے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔پہلا بریکار اس لئے بنا تھا کہ اس کے والدین نے اس کے لئے کام مہیا نہ کیا لیکن دوسرے بیکار اس لئے بنیں گے کہ وہ ایک بریکار سے متاثر ہو کر اُس کے رنگ میں رنگین ہو جائیں گے۔اور اُس کی بد عادات کو اپنے اندر پیدا کر کے اپنی زندگی کا مقصد یہی سمجھیں گے کہ کہیں بیٹھے تو گا لیا کہیں سر مار لیا ، کہیں تاش کھیل لی ، کہیں شطرنج کھیل لیا، کہیں جو کھیلنے لگ گئے۔غرض بیکاروں کی تمام تر کوشش ایسے ہی کاموں کے لئے ہوگی جو نہ اُن کے لئے مفید نہ سلسلہ کے لئے اور نہ مذہب کے لئے۔پھر اقتصادی