خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 828 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 828

خطبات محمود ۸۲۸ سال ۱۹۳۵ء سے لے کر کام شروع کریں اور دوسری طرف میں جماعت کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اپنے نام دفتر تحریک جدید میں بھجوائیں تا کہ تبلیغ کے اس طریق سے بھی فائدہ اُٹھایا جائے اور میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے احباب گزشتہ سال سے زیادہ اپنے آپ کو اس سلسلہ میں پیش کریں گے۔(۲) تحریک جدید کی ہدایتوں میں سے ایک ہدایت یہ بھی تھی کہ ہماری جماعت کے افراد بیکار نہ رہیں میں نہیں کہہ سکتا میری اس تحریک پر جماعت نے کس حد تک عمل کیا لیکن اپنے طور پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جماعت نے اس پر کوئی عمل نہیں کیا اور اگر کیا ہو تو میرے پاس اُس کی رپورٹ نہیں پہنچی۔یادرکھو جس قوم میں بریکاری کا مرض ہو وہ نہ دنیا میں عزت حاصل کر سکتی ہے اور نہ دین میں عزت حاصل کر سکتی ہے۔بریکاری ایک وبا کی طرح ہوتی ہے جس طرح ایک طاعون کا مریض سارے گاؤں والوں کو طاعون میں مبتلاء کر دیتا ہے ، جس طرح ایک ہیضہ کا مریض سارے گاؤں والوں کو ہیضہ میں مبتلاء کر دیتا ہے اسی طرح تم ایک بیکار کوسی گاؤں میں چھوڑ دو وہ سارے نو جوانوں کو بیکار بنانا شروع کردے گا۔جو شخص بیکار رہتا ہے وہ کئی قسم کی گندی عادتیں سیکھ جاتا ہے مثلا تم دیکھو گے کہ بریکار آدمی ضرور اس قسم کی کھیلیں کھیلے گا جیسے تاش یا شطرنج وغیرہ ہیں۔اور جب وہ یہ کھیلیں کھیلنے بیٹھے گا تو چونکہ وہ اکیلا کھیل نہیں سکتا ، اس لئے وہ لازماً دو چار اور لڑکوں کو اپنے ساتھ ملانا چاہے گا اور پھر وہ اپنے حلقہ کو اور وسیع کرتا جائے گا اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے ہمارے ایک اُستاد تھے اُن کے دماغ میں کچھ نقص تھا۔بعد میں وہ اسی نقص کی وجہ سے مدعی ماموریت اور نبوت بھی ہو گئے۔انہیں بھی کسی زمانہ میں تاش کھیلنے کا شوق تھا اور باوجود اس کے کہ وہ ہمارے اُستاد تھے اور اُن کا کام یہ تھا کہ ہماری تربیت کریں پھر بھی وہ پکڑ کر ہمیں بٹھا لیتے اور کہتے آؤ تاش کھیلیں۔اُس وقت ہم کو بھی اس کھیل میں مزہ آتا۔کیونکہ بچپن میں جس کام پر بھی لگا دیا جائے اُسی میں بچے کو لذت آتی ہے لیکن آج یہ بیہودہ کھیل معلوم ہوتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ بعض اور بچے بھی ان کے ساتھ تاش کھیلتے۔جب نماز کا وقت آتا تو ہم نماز پر جانے کے لئے گھبراہٹ کا اظہار کرتے لیکن جب انہیں ہماری گھبراہٹ محسوس ہوتی تو کہتے ایک بار اور کھیل لو اور وہ کھیلتے تو تھوڑی دیر کے بعد کہتے ایک بار اور کھیل لو ہمارے کان میں چونکہ ہر وقت یہ باتیں پڑتی رہتی تھیں کہ دین کی کیا قیمت ہے اس لئے جب ہم دیکھتے کہ نماز کو دیر ہو رہی ہے تو اُٹھ کر نماز کے لئے بھاگ جاتے مگر جن کے کانوں میں یہ آواز نہ پڑے کہ دین کی کیا قدرو قیمت ہوتی ہے