خطبات محمود (جلد 16) — Page 817
خطبات محمود ۸۱۷ سال ۱۹۳۵ء اپنے پنجابی لہجہ میں کہا کہ مولوی صاحب مجھے بھی ہلام ہوا تھا۔(الہام ہوا تھا ) کہ تو نماز پڑھا کر۔حضرت خلیفہ اول نے پوچھا کیا الہام ہوا تھا ؟ تو اُس نے کہا یہ الہام ہوا تھا اوٹھ اوئے سورا نماز پڑھ۔یعنی اوسور اُٹھ کر نماز پڑھ۔غرض خدا تعالیٰ کو آدمیوں کی ضرورت نہیں وہ کام لینا چاہے تو ملائکہ سے ہی کام لے لیتا ہے۔خدا تعالیٰ کے سلسلہ کی ترقی کے لئے دیانت اور امانت کی آدمیوں سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے جو لوگ دیانتداری کے ساتھ چلنا نہیں چاہتے انہیں چاہئے کہ پیچھے ہٹ جائیں اور میدان سے الگ ہو جائیں اور یہ بالکل نہ کہیں کہ ہم اپناسب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں کیونکہ وہ اس طرح اپنے آپ کو اور گنہگار بناتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّغُلی با وجود اس کے کہ ہمارا رسول اکیلا تھا گو ابو بکر ساتھ تھے مگر وہ بھی آپ میں مدغم تھے کیونکہ صدیق اُسی کو کہتے ہیں جو نبی سے کامل اتحاد رکھتا ہو پس ان کے ساتھ ہونے کے باوجود آپ اکیلے تھے ) پھر بھی اللہ تعالیٰ نے کفار کی مجموعی تدابیر کو ناکام بنادیا اور اُس نے فتح دی۔پس ظاہری تدبیروں سے کچھ نہیں بنتا ہم تو صرف تمہیں ثواب کا موقع دیتے ہیں۔وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمُ الله تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے پس اُسے کسی کی احتیاج ہی کیا ہو سکتی ہے پھر فرما یا اِنْفِرُوا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَ جَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۔یعنی ہم اپنے قول کو دوبارہ دہراتے ہیں کہ اتنی نصیحت کے بعد شائد تمہارے دل نرم ہو گئے ہوں اور تم حکم خدا وندی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو۔اور کہتے ہیں کہ تم کو چاہئے کہ حالات کے تقاضا کے مطابق تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکل کھڑے ہو۔خواہ خفیف ہونے کی حالت میں خواہ ثقیل ہونے کی حالت میں۔خفیف اور ثقیل کے معنی جوان اور بوڑھے کے بھی ہو سکتے ہیں۔غریب اور امیر کے بھی تندرست اور بیمار کے بھی۔فارغ اور مشغول کے بھی۔مجرد اور متاہل کے بھی۔بے سروسامان اور ساز وسامان والے کے بھی۔سوار اور پیادہ کے بھی اور اکیلے اور جتھے والے کے بھی۔ان سب حالتوں میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کو خدا کی راہ میں نکل کھڑا ہونا چاہئے اور اپنے اموال اور اپنی جانوں سے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنا چاہئے۔شاید کوئی کہے کہ یہاں تو جہاد کا حکم ہے ہم اس کے کس طرح مخاطب ہو سکتے ہیں ؟ مگر یا درکھو کہ بانی سلسلہ احمد یہ تو ساری عمر یہی تعلیم دیتے رہے ہیں کہ جہا د صرف تلوار کا نہیں ہوتا بلکہ جہاد ہر اس قربانی کو کہتے ہیں جو