خطبات محمود (جلد 16) — Page 799
خطبات محمود ۷۹۹ سال ۱۹۳۵ء شک ہے کہ وہ دھیلے کا چاقو جو سان پر چڑھا ہوا ہو اُس دوسرے دھیلے کے چاقو سے جو مٹی میں پڑا ہوا زنگ آلود ہو چکا ہو کمزور نہیں ہو سکتا۔پس ایک احمدی خواہ کتنا بھی جاہل کیوں نہ ہو وہ سان پر چڑھے ہوئے چاقو کی طرح ہے اور اسی لیاقت کا دوسرا آدمی مٹی میں ملے ہوئے زنگ آلود چاقو کی طرح ہے اور دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔پس میں مان لیتا ہوں کہ ایک غیر تعلیم یافتہ احمدی دھیلے کے چاقو کی طرح ہے۔مگر وہ اکیلا ہی تو دنیا میں ایسا نہیں۔اسی کی لیاقت کے اور آدمی بھی تو دنیا میں موجود ہیں فرق صرف یہ ہے کہ یہ سان پر چڑھا ہوا ہے اور وہ زنگ آلود ہیں۔اسے خدا تعالیٰ نے صیقل کر کے صاف کر دیا ہے اور دوسروں کو زنگ کھا رہا ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ یہ ان کے مقابلہ کے لئے کھڑا نہیں ہوتا۔غرض ایک احمدی بھی ایسا نہیں جو کہہ سکے کہ میں تبلیغ کے قابل نہیں ہوں۔اگر ہم کسی زمیندار سے کہیں کہ اپنائل چھوڑ دو اور لاہور کے لارڈ بشپ کو تبلیغ کرو۔تو وہ عذر کر سکتا ہے کہ میں اتنی لیاقت نہیں رکھتا اگر چہ میں اس کو بھی صحیح نہیں مان سکتا کیونکہ ایمان سب کچھ پیدا کر دیتا ہے۔اگر ایمان اعلیٰ ہو تو کونسا ایسا انسان ہوسکتا ہے جسے تبلیغ نہیں کی جاسکتی۔میں یہ نہیں کہتا کہ میں ایسا ان پڑھ ہوں اور ناخواندہ ہوں جیسا جماعت احمدیہ کا ہر وہ فرد جو اردولکھ پڑھ نہیں سکتا۔اسی طرح میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں عربی سے ایسا ہی نا واقف ہوں جیسا کہ جماعت کا ہر وہ شخص جو عربی سے بالکل ناواقف ہے۔اور میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں انگریزی زبان سے ایسا ہی نابلد ہوں جیسا کہ جماعت کے وہ دوست جنہوں نے بالکل انگریزی تعلیم حاصل نہیں کی۔مگر ان تینوں میں سے کوئی بھی ایسا علم نہیں جس میں میں نے کوئی امتحان پاس کیا ہو یا کوئی کمال حاصل کیا ہو۔مگر با وجود اس کے کہ میری یہ تینوں تعلیمیں نامکمل رہیں اور چونکہ ہمارے گھر میں اردو بولی جاتی ہے اس لئے پنجابی جو ہمارے صوبہ کی زبان ہے ، اس کا بھی یہی حال رہا۔مگر آج تک کسی میدان میں کسی نے مجھ سے گفتگو نہیں کی۔جس کے متعلق یہ تو علیحدہ بات ہے کہ میں یا میرے ساتھیوں نے یہ محسوس کیا ہو کہ اس کا پلہ کمزور رہا ہے بلکہ کبھی ایسا بھی نہیں ہوا کہ اس نے یا اس کے ساتھیوں نے یہ محسوس کیا ہو کہ اس کا پلہ بھاری رہا ہے۔میں بچہ تھا۔غالباً میری عمر اُس وقت ۱۷ ، ۱۸ سال ہوگی کہ میں لاہور گیا اور ایک دوست سے کہا کہ چلو تبلیغ کریں۔اللہ تعالیٰ نے جس سے بڑے کام لینے ہوتے ہیں اُس کو حو صلے بھی بلند دیتا ہے۔میں نے بھی تبلیغ کے لئے کسی معمولی آدمی کو نہیں چنا بلکہ اُس زمانہ میں شمالی ہندوستان کے لئے عیسائیوں کا جو مشنری کالج تھا اُس کے پرنسپل