خطبات محمود (جلد 16) — Page 798
خطبات محمود ۷۹۸ سال ۱۹۳۵ء تھے۔انہوں نے ادنی اقوام میں تبلیغ اسلام کا بیڑا اٹھایا ہوا تھا۔وہ خاکروبوں میں تبلیغ کیا کرتے تھے اور سینکڑوں خاکروب ان کے مرید ہو گئے تھے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے اور ان کے بعض مرید بعض دفعہ یہاں بھی آ جایا کرتے تھے۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ حضرت مرزا صاحب ہمارے پیر کے پیر ہیں۔یہاں ہمارے ایک رشتہ میں چچانے محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت اور آپ کے دعوئی کا تمسخر اڑانے کے لئے اپنے آپ کو چوہڑوں کا پیر مشہور کیا ہوا تھا۔اور ان کا دعویٰ تھا کہ میں لال بیگ ہوں۔ایک دفعہ بعض وہ لوگ جو خاکروب سے مسلمان ہو چکے تھے یہاں آئے ہوئے تھے۔انہیں حقہ کی عادت تھی۔ان صاحب کی مجلس میں جو انہوں نے حقہ دیکھا تو حقہ کی خاطر ان کے پاس جا بیٹھے۔ہمارے چچانے ان سے مذہبی گفتگو شروع کر دی اور کہا کہ تم مرزا صاحب کے پاس کیوں آئے ہو؟ تم تو دراصل میرے مرید ہو۔مرزا صاحب نے تمہیں کیا دیا ہے۔وہ لوگ ان پڑھ تھے جیسے خاکروب عام طور پر ہوتے ہیں۔آجکل تو پھر بھی خاکروب کچھ ہوشیار ہو گئے ہیں لیکن یہ آج سے چالیس سال پہلے کی بات ہے اُس وقت یہ قوم بالکل ہی جاہل تھی۔لیکن جب ان سے ہمارے چچانے سوال کیا کہ مرزا صاحب نے تم کو کیا دیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اور تو کچھ نہیں جانتے لیکن اتنی بات پھر بھی سمجھ سکتے ہیں کہ لوگ پہلے ہم کو چوہڑے کہتے تھے لیکن مرزا صاحب کے تعلق کی وجہ سے اب ہمیں مرزائی کہتے ہیں۔گویا ہم چوہڑے تھے اب ان کے طفیل مرزا بن گئے۔لیکن آپ پہلے مرزا تھے مرزا صاحب کی مخالفت کی وجہ سے چوہڑے بن گئے۔اب یہ باتیں ہیں تو بظاہر لطائف مگر ان کے اندر معرفت کا فلسفہ بھی موجود ہے۔ان ان پڑھ لوگوں نے اپنی زبان سے اس مفہوم کو ادا کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کے مخالفوں کو تباہ کر دیتا ہے اور ماننے والوں کو ترقی دیتا ہے۔پس کچی بات یہ ہے کہ احمدی ہوتے ہی انسان کی عقل مذہبی امور میں تیز ہو جاتی ہے اور وہ علماء پر بھی بھاری ہوتا ہے۔لیکن اس امر کو نظر انداز کر دو تو بھی کونسا ایسا احمدی ہے جس کے متعلق یہ کہا جا سکے کہ اس کے طبقہ کے لوگ دنیا میں موجود نہیں۔بلکہ ہر احمدی اپنی عقل اور سمجھ میں کم سے کم اپنے طبقہ کے ہر عیسائی، ہندو، سکھ اور غیر احمدی سے زیادہ ہوشیار ہوگا۔میں مان سکتا ہوں کہ را جرس کے چاقو اور دھیلہ کے چاقو میں جو کسی زمانہ میں ہمارے لو ہار بنایا کرتے تھے زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔اور وہ دھیلے کا چاقو را جرس کے چاقو کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔لیکن اس میں بھی کیا