خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 789 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 789

خطبات محمود ۷۸۹ سال ۱۹۳۵ء سکتا ہے کہ تم نے دنیا میں آکر کوئی کام کیا۔دیکھو! تنور میں پڑی ہوئی لکڑیاں روٹیاں پکاتی ہیں لیکن جلتا ہوا گھر کسی کے کام نہیں آتا بلکہ وہ انسانوں اور اُن کے اموال کو تباہ کر دیتا ہے۔اگر کوئی جلنے والی لکڑی بننے کے لئے تیار ہے تو اُسے چاہئے کہ وہ تنور کی لکڑی بنے جو جل کر دنیا کو فائدہ پہنچاتی ہے پس میں نو جوانوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کریں اور غیر ملکوں میں تبلیغ اسلام کے لئے نکل جائیں اور وہ روح پیدا کریں جو قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں میں تھی۔تب میں سمجھوں گا کہ تم اپنے دعووں میں بچے ہو۔ایک بزرگ کے متعلق جو ایران یا افغانستان کے تھے تاریخوں میں ذکر آتا ہے کہ ایک دفعہ ان سے ان کے غالباً ایک سو ساٹھ مُرید ملنے آئے اور ملاقات کے بعد عرض کیا کہ ہمیں کوئی کام بتایا جائے۔انہوں نے فرمایا ابھی میرے پاس ایک شخص ذکر کر رہا تھا کہ ہندوستان میں اسلام کا کہیں نام نہیں۔انکا دُ کا کوئی مسلمان مل جائے تو مل جائے ورنہ عام طور پر لوگ اسلام سے سخت نا واقف ہیں۔اگر تم کام کرنا چاہتے ہو تو ہندوستان میں چلے جاؤ اور تبلیغ کرو۔وہ ایک سو ساٹھ کا ایک سو ساٹھ اُسی وقت بغیر اس کے کہ گھر واپس جاتے اور اپنی بیوی بچوں سے ملتے سلام کر کے ہندوستان روانہ ہو گئے اور تبلیغ میں اپنی عمر بسر کر دی۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام پھیلا یا اور اسی قسم کے لوگ ہیں جو اب احمدیت کو پھیلائیں گے۔تنخواہ دار مبلغ احمدیت کو نہیں پھیلا سکتے۔وہ تو ایسے ہی ہیں جیسے کوئی نگران انسپکٹر ہو۔پس جس دن وہ روح تمہارے اندر پیدا ہو گئی جو میں پیدا کرنی چاہتا ہوں۔اُس دن نہ کوئی طاقت تمہیں مار سکتی ہے اور نہ کوئی قوم تمہارے ارادوں میں مزاحم ہو سکتی ہے۔تب تم ہی تم دنیا کے بادشاہ ہو گے۔حکومتیں تمہاری ہوں گی ، تجارتیں تمہاری ہوں گی ، زراعتیں تمہاری ہوں گی اور تم اسی طرح دنیا پر حاوی ہو گے جس طرح آسمان زمین پر حاوی ہے۔یا د رکھو مومن کا دل خدا تعالیٰ کا عرش ہوتا ہے۔اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ اللہ تعالیٰ کی کرسی نے زمین و آسمان کا احاطہ کیا ہوا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کی کرسی زمین و آسمان پر احاطہ کئے ہوئے ہے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ عرش کی کس قدر وسعت ہو گی۔پس اگر واقعہ میں مؤمن کا دل خدا تعالیٰ کا عرش ہوتا ہے تو جب تم سچے مومن بن جاؤ گے یقیناً ساری دنیا اُسی طرح تمہاری مٹھی میں