خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 778 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 778

خطبات محمود 227 سال ۱۹۳۵ء اس میں بیٹھ گئے۔یہ لفظ مجھے آج تک یاد ہیں اور کھولنے میں نہیں آتے مگر اس لئے نہیں کہ وہ مجھے بُرے لگے بلکہ اس لئے کہ ان میں میرے لئے ایک عظیم الشان سبق پنہاں تھا۔میں سمجھتا ہوں آپ یہ الفاظ کہنے میں بالکل حق بجانب تھے اور میرا فرض تھا کہ میں آپ سے خود دریافت کرتا یا گاڑی کو ٹھہرا رہنے دیتا۔میں نے اپنے پہلے فرض کے ادا کرنے میں کوتاہی کی اور سزا کو خوشی سے برداشت کرنا میرا دوسرا فرض تھا جسے میں نے ادا کر دیا اُس موقع پر اجتہاد کا کوئی سوال نہ تھا لیکن اجتہاد کر کے میں نے ایک ایسی غلطی کی جس کی سزا مجھے بھگتنی پڑی اور بھگتنی چاہئے تھی۔تو عذر کرنا ایک لعنت ہے جو مسلمانوں کے گلے میں پڑی ہوئی ہے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَلَوْ الْقَى مَعَاذِ يُرَهُ خدا تعالیٰ کے سامنے لاکھ عذر پیش کر و قبول نہ ہونگے۔پس عذر کوئی چیز نہیں بلکہ اسلام صرف ایک ہی بات کا قائل ہے کہ یا تو جو کام کسی کے سپرد کیا جائے وہ اُسے پورا کرے یا اگر پورا نہ کر سکے تو اُس کی لاش اُس جگہ نظر آئے اِن دونوں کے درمیان کوئی راہ نہیں جسے اختیار کیا جا سکے۔یہ روح ہے جس کو اللہ تعالی نماز کے ذریعہ پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ روح ہے جو نو جوانوں میں کور کے ذریعہ پیدا کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔اور یہی چیز ہے جو تمام محلوں کے پریذیڈنٹوں کو مد نظر رکھنی چاہئے۔کور نماز نہیں کہ اس میں سے کوئی نکل نہ سکتا ہو بلکہ اس میں داخل ہونا مرضی پر منحصر ہے اور جو شخص داخل نہ ہو یا داخل ہو کر الگ ہونا چاہے تو اس وقت علیحدہ ہو سکتا ہے لیکن یہ ایک ایسی مفید چیز ہے کہ اس کے نتائج اتنے اعلیٰ ہیں کہ نو جوانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے پر، اپنی قوم پر ، اپنے زمانہ پر اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں پر رحم کر کے اس میں داخل ہوں اور اپنی عادتیں ٹھیک کریں اگر با وجود ان فوائد کے کوئی شخص داخل نہیں ہونا چاہتا تو اسے چھوڑ دیا جائے اور جو داخل ہوں اُن سے ایسی سختی کی جائے جیسے ایک ملازم سے اُس کا افسرسختی کرتا ہے۔اگر کسی وقت والنٹیئرز میں سے کوئی بیمار ہو تو ان کا فرض ہے کہ وہ ڈاکٹری سر ٹیفکیٹ بھیج کر رُخصت حاصل کرے۔ہاں ڈاکٹروں اور طبیبوں سے مل کر یہ انتظام کیا جانا چاہئے کہ جب کسی کو سر ٹیفکیٹ کی ضرورت ہو تو مفت سر ٹیفکیٹ دیا جائے ہر محلہ میں جو ڈاکٹر یا کمپاؤنڈر اور حکیم ہوں انہیں اس قسم کے سرٹیفیکیٹ دینے کا اختیار دیا جائے۔ہماری کونسی ڈینوی حکومت ہے کہ اس کے لئے سول سرجن کا سر ٹیفکیٹ درکار ہو۔جو بھی محلہ میں حکیم یا کمپاؤنڈ ریا ڈاکٹر ہو اس سے اس قسم کا سر ٹیفکیٹ لو۔یا اگر کوئی زیادہ بیمار ہے تو اُس کے رشتہ دار اُس کے لئے سر