خطبات محمود (جلد 16) — Page 763
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء اور بیکاروں کے لئے لوہار، ترکھان، چمڑے کا کام مثلاً اٹیچی کیس اور بوٹ وغیرہ بنانا سکھائے جانے کا انتظام کیا جائے۔ہم سالانہ قادیان کے غرباء پر ۱۵ ہزار روپیہ کے قریب صرف کرتے ہیں۔۵ ہزار تو زکوۃ کا ہوتا ہے پھر کئی ایک کولنگر خانہ سے روٹی دی جاتی ہے پھر دارالشیوخ کے طلباء ہیں جن کے لئے جمعہ کے روز آٹا جمع کیا جاتا ہے۔عیدین کے موقع پر بھی کچھ روپیہ خرچ ہوتا ہے اور میں کچھ رو پیدا اپنے پاس سے بھی خرچ کرتا ہوں اور یہ سب ملا کر تقریباً پندرہ ہزار ہو جاتا ہے اس کی بجائے اگر ہم فی الحال پانچ ہزار بھی تجارتی کاموں پر لگا دیں تو اس سے بہت زیادہ فوائد ہوں گے بیکاروں کے اندر کام سیکھنے کے بعد قربانی کی روح اور خود اعتمادی پیدا ہوگی اور مانگنے کی وجہ سے جو خست پیدا ہو جاتی ہے وہ دُور ہو گی۔اور پانچ ہزار روپیہ سے ہم سو دو سو آدمی پال سکتے ہیں اور ایسے کام نکالے جائیں گے جن میں عورتیں اور نا بینا اشخاص بھی حصہ لے سکیں۔مثلاً ٹوکریاں بنانا، چکیں بنانا ، آزار بند بنانا وغیرہ یہ ایسے کام ہیں جنہیں عورتیں بھی کر سکتی ہیں۔اگر شروع میں ہمیں نقصان بھی ہو تو کوئی حرج نہیں مثلاً ہم نے دس ہزار خرچ کیا اور آٹھ ہزار کی آمد ہوئی تو پھر بھی ہم نفع میں رہے کیونکہ ان لوگوں کی اگر ہم روپیہ سے امداد کرتے تو غالباً پانچ ہزار سے کم خرچ نہ ہوتا۔اگر اللہ تعالیٰ اس سلسلہ میں برکت دے تو موجودہ بریکاروں کو کام پر لگانے کے بعد باہر بھی بریکاروں کو بلایا جا سکتا ہے اور اس طرح یہ کام قادیان کی ترقی کا موجب بھی ہو سکتا ہے پس اس کام کے لئے بھی ایک شخص کی ضرورت ہے جو حقیقی معنوں میں زندگی وقف کرنے والا ہو بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ تکلیف سے گھبرا جاتے ہیں یا کہیں زیادہ تنخواہ کی امید ہو تو چلے جاتے ہیں۔بعض کام سے جی چراتے ہیں ، بعض کام کے عادی نہیں ہوتے۔حالانکہ وقف کے معنی یہ ہیں کہ سمجھ لیا جائے اب اسی کام میں موت ہوگی نہ دن کو آرام ہو نہ رات کو نیند آئے۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ حقیقی جوش سے کام کرنے والے کی نیند اکثر خراب ہو جایا کرتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ کئی دفعہ چار پائی پر لیٹ کر کئی کئی گھنٹے فکر سے نیند نہیں آتی اور سلسلہ کے کاموں کے متعلق سوچنے اور فکر کرنے میں دماغ لگارہتا ہے پس کام کرنے والے کے لئے نیند بھی نہیں ہوتی۔قرآن کریم نے جو کہا ہے کہ مؤمن سوتے وقت بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے دین کی فکر میں ہی تھک کر سو جاتے ہیں اس لئے نیند میں بھی ان کا دماغ دین کے کام میں لگارہتا ہے۔پس وہ نوجوان آگے آئیں جو دین کے کام میں مرنا چاہیں۔یہ غلطی ہے