خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 762 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 762

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء لئے کم رقم بچتی ہے مگر پھر بھی تعلیمی وظائف وغیرہ ملا کر تمیں ، پینتیس ہزار کی رقم صرف ہوتی ہے مگر اتنی بڑی جماعت کے لحاظ سے یہ پھر بھی کم رہتی ہے۔اور کمی کی وجہ سے کئی لوگ تکلیف اُٹھاتے ہیں کئی شکوے بھی کرتے ہیں حالانکہ مؤمن کو شکوہ کبھی نہیں کرنا چاہئے۔اسے چاہئے کہ بجائے دور و پے نہ مل ، سکنے کا شکوہ کرنے کے ایک جو ملا ہے اُس کا شکر کرے۔بہر حال غرباء کو پوری امداد نہیں دی جاتی اور نہ دی جاسکتی ہے اور اس کی وجہ قلت سرمایہ ہے پس اس تکلیف کا اصل علاج یہی ہے کہ بریکاری کو دور کیا جائے۔میں نے اس کے لئے ایک کمیٹی بھی بنائی تھی مگر اُس نے اپنا کام صرف یہی سمجھ رکھا ہے کہ درخواستوں پر امداد دیئے جانے کی سفارش کر دے حالانکہ یہ کام تو میں خود بھی آسانی سے کر سکتا تھا مگر غرباء چونکہ مجھ سے زیادہ ملتے اور اپنے حالات بیان کرتے رہتے ہیں اس لئے ان سے بہتر طور پر کر سکتا تھا پس امدادی رقم کی تقسیم کے لئے کسی امداد کی تو مجھے ضرورت نہیں۔میری غرض تو یہ تھی کہ بیکاروں کے لئے کام مہیا کیا جائے اس لئے میرا ارادہ ہے کہ اس شعبہ کو بھی تحریک جدید میں ہی شامل کر دیا جائے اور اس کے لئے بھی ایک ایسے آدمی کی ضرورت ہو گی جو اپنے آپ کو غرباء کی امداد اور ان کے لئے کام مہیا کرنے کے لئے وقف کر دے یہ بھی مبلغ سے کم ثواب کا کام نہیں۔جو کام بھی سپرد کر دیا جائے وہی کرنا موجب ثواب ہے۔اگر کسی شخص کو کسی جگہ مدرس مقرر کر دیا جاتا ہے تو یہ نہیں کہ وہ ثواب میں مبلغ سے کم رہے گا یا مثلاً بور ڈ نگ تحریک جدید کا انچارج ہے بوجہ اس کے کہ اس کا کام دین کی خدمت کے لئے ایک نئی نسل پیدا کرنا ہے، یہ مبلغ کے کام سے کم اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اچھی طرح کیا جائے تو مبلغ سے بھی زیادہ ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح غرباء کو کام پر لگانے میں امداد کرنا اور اس سلسلہ میں جو روپیہ اس کے سپرد کیا جائے اُسے ٹھیک طور پر استعمال کرنا کوئی کم ثواب کا موجب نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ اس میں ہزاروں غرباء کی دعائیں ملیں گی زیادہ ثواب کا موجب ہو سکتا ہے۔پس وقف کنندگان کو اگر تعلیم پر یا کسی اور کام پر لگا دیا جائے تو انہیں یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہمارا ثواب کہاں گیا ؟ مثلاً میں نے ان میں سے ایک کوتحریک جدید کے بورڈنگ کا سپر نٹنڈنٹ بنایا ہے وہ اگر بچوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے رات دن ایک کرے تو وہ سینکڑوں مبلغوں میں چنندہ مبلغ کے برابر ثواب حاصل کر سکتا ہے۔امداد بیکاران کے متعلق میرا ارداہ یہ ہے کہ راس المال کو خرچ نہ کیا جائے بلکہ بعض نفع مند کاموں پر روپیہ لگا کر جو نفع حاصل ہو وہ اس مد میں خرچ کیا جائے