خطبات محمود (جلد 16) — Page 731
خطبات محمود ۷۳۱ سال ۱۹۳۵ء حقیقت کو مشتہیہ کر سکا تو صرف اس طرح نہ کہ کھلے طور پر جھوٹ بول کر۔مگر اسلام نے سچائی کا جو نمونہ دکھا یا وہ تو نظیر نہیں رکھتا۔اسلامی عہد میں ایک دفعہ ایک شخص کو پھانسی کی سزا ہوئی جب اُسے قتل کیا جانے لگا تو اُس نے کہا میرے گھر یتامی و مساکین کی بہت سی امانتیں پڑی ہیں اگر میں قتل ہو گیا تو ان کا مال ضائع ہو جائے گا مجھے اجازت دیجئے کہ میں ان کا مال ان کے سپر د کر آؤں۔انہوں نے پوچھا اگر تو بھاگ جائے تو تیرا ضامن کون ہوگا ؟ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ایک صحابی کھڑے نظر آئے اُن کے چہرہ پر چونکہ اس نے نرمی اور محبت کے آثار دیکھے اس لئے کہنے لگا یہ میرے ضامن ہیں۔انہوں نے اُس صحابی سے پوچھا تو وہ کہنے لگے ہاں میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔وقتِ مقررہ کے قریب تک جب وہ نہ آیا تو لوگوں کے دلوں میں سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ اب اس کی بجائے صحابی کوسزا بھگتنی پڑے گی لیکن جب عین آخری وقت آیا تو لوگوں نے دیکھا دُور سے ایک سوار بے تحاشہ اپنے گھوڑے کو دوڑاتا چلا آ رہا ہے اور اتنی تیزی اور شدت سے دوڑا رہا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ گھوڑا اُس کی رانوں کے نیچے مر جائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا ادھر وہ سوار گھوڑے سے اترا اور اُدھر گھوڑے نے دم توڑ دیا۔وہ سوار وہی شخص تھا جس کے لئے سزائے موت تجویز ہوئی تھی وہ کھڑا ہوا اور اُس نے کہا میں اتنی تیزی سے اس لئے آ رہا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ وعدہ کی خلاف ورزی ہو جائے حالانکہ وہ ایسا شخص تھا جس کے لئے پھانسی کی سزا تجویز ہوئی تھی۔اب بتاؤ کہ اس عہد میں کتنے مسلمان ہیں جنہیں ہفتہ بھر کی بھی قید کی سزا ملی ہو اور وہ وعدہ کر کے جائیں اور پھر وقت پر آجائیں۔یہ وہ اسلامی صداقت تھی جس کا صدیوں تک لوگوں کے دلوں پر اثر رہا۔مگر آج کہاں ہے یہ صداقت ؟ کہاں ہے یہ دیانت ؟ اور کہاں ہے یہ راستی؟ ہر بات دھوکا اور ہر بات میں فریب دیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس میں نجات ہے۔حالانکہ اصل نجات وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے۔جب ایک علیم وخبیر اور قادر و مقتدر خدا آسمان پر موجود ہے تو یہ دھوکا کہاں تک چل سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ احرار کو ہر روز ذلتیں نصیب ہوتیں اور ہر روز رُسوائیاں ہوتی ہیں۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ خدا تعالیٰ زمین کے کناروں سے احمدیت کو بڑھاتا چلا جارہا ہے۔کیا انہیں نظر نہیں آتا کہ باوجود ان کی تمام مخالفتوں کے احمدیت ترقی کر رہی ہے۔یہی مسجد اس پر گواہ ہے کہ