خطبات محمود (جلد 16) — Page 730
خطبات محمود ۷۳۰ سال ۱۹۳۵ء اور مسلمانوں کی ترقی آپ پر ایمان لانے سے وابستہ ہے۔تو اس کے بعد اگر ہم ان کے جلسہ کو بشرطیکہ اس میں شرافت سے کام لیا جائے اور اشتعال انگیزی نہ ہو ، روکیں تو وہ جو جی میں آئے کہیں لیکن اگر وہ ان باتوں کا انکار کرتے ہیں تو ہم اور وہ ایک صف میں کس طرح کھڑے ہو سکتے ہیں۔غرض ان کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ کوئی عقل اور سمجھ کی بات ان کے منہ سے نہیں نکلتی حالانکہ ان میں پڑھے لکھے بھی ہیں ،عربی دان بھی ہیں، انگریزی دان بھی ہیں ، مولوی بھی ہیں ، لیڈر بھی ہیں ، مگر میں جب یہ باتیں سنتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ کیا ان میں سے کسی کے دل میں بھی خدا تعالیٰ کا خوف نہیں رہا۔یہ بھی تو ایک زبر دست ثبوت ہے اِس بات کا کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ماً مور کی ضرورت ہے۔آج کہاں ہے وہ سچائی جس پر اسلام کو فخر تھا۔کہاں ہے وہ سچائی جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی قوم نہیں کر سکتی تھی بلکہ وہ تو الگ رہی جو سچائی پرانے زمانہ میں کفار میں پائی جاتی تھی اُس کا نمونہ بھی تو اب ان لوگوں میں نہیں ملتا رسول کریم ﷺ نے قیصر کو ایک دفعہ ایک تبلیغی خط لکھا جب خط اُس کے پاس پہنچا تو اُس نے کہا مکہ کا کوئی آدمی بلاؤ جس سے میں اس مدعی نبوت کے حالات دریافت کروں۔اتفاقاً ابوسفیان تجارت کے لئے وہاں گئے ہوئے تھے لوگوں نے انہیں پیش کیا۔ابوسفیان اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔بادشاہ نے انہیں بلایا اور ان کے پیچھے بعض مکہ کے اور آدمی کھڑے کر دیئے اور کہا میں اس سے بعض باتیں پوچھنا چاہتا ہوں اگر یہ کسی بات کا غلط جواب دے تو تم بتا دینا۔ابوسفیان خود ہی روایت کرتے ہیں کہ جب اس نے ایسا کیا تو مجھے بڑی مشکل پیش آئی اور میں نے کہا میرے ساتھی اس نے میرے پیچھے کھڑے کر دیئے۔اگر میں اسلام کی دشمنی کی وجہ سے کسی بات میں جھوٹ بول دوں تو ممکن ہے اُن میں سے کوئی بول پڑے اور مجھے شرمندہ ہونا پڑے۔اس لئے جب قیصر نے سوالات کئے تو وہ صحیح صحیح جوابات دیتے گئے۔ایک سوال اُس نے رسول کریم کے متعلق یہ بھی کیا کہ کیا اس نے کبھی معاہدات کو توڑا ہے وہ کہنے لگے ابھی تک تو اس نے کسی معاہدہ کو نہیں تو ڑا لیکن اب ایک ہماری قوم نے اس سے معاہدہ کیا ہے معلوم نہیں وہ اس کو تو ڑتا ہے یا قائم رکھتا ہے۔ابو سفیان کہتے ہیں اُس نے پہلے جتنے سوالات کئے ان میں کسی کے جواب میں میں چالا کی نہ کر سکا۔اب جو اُس نے یہ سوال کیا تو میں نے یہ فقرہ ملا دیا کہ اب ایک معاہدہ اس سے ہوا ہے دیکھیں وہ اسے توڑتا ہے یا نہیں۔سے گویا رسول کریم ﷺ کا ایک اهد ترین دشمن بھی اگر