خطبات محمود (جلد 16) — Page 68
خطبات محمود الله ۶۸ سال ۱۹۳۵ء کریم ﷺ کو اس پر علیحدہ بٹھا کر ایک تیز رفتار اونٹنی آپ کے پاس کھڑی کر دی اور کہایا رَسُولَ الله ! ہمارے بھائیوں کو مدینہ میں معلوم نہ تھا کہ جنگ ہونے والی ہے اس لئے وہ نہ آئے لیکن یا رَسُولَ اللهِ ! اگر ہم سب کے سب مارے جائیں تو آپ اس تیز رفتار اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ تشریف لے جائیں وہاں ہمارے بھائیوں کی ایک جماعت بیٹھی ہے جو اسلام کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے حاضر ہے اسے آپ مدد کے لئے بلا لیں۔سے پھر قرآن مجید میں صراحتا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خطرے کے وقت تمام مسلمان با جماعت نماز نہ پڑھیں بلکہ آدھے کھڑے رہا کریں اور آدھے نماز پڑھا کریں۔جب ایک رکعت نماز پڑھ لی جائے تو نماز پڑھنے والے پہرہ پر کھڑے ہو جائیں اور پہرہ دینے والے نماز میں شامل ہو جائیں۔ہے گویا حفاظت کے لئے پہرہ دینے والوں کو یہاں تک معافی دی گئی ہے کہ جنگ کے وقت ان کی ایک رکعت نماز ہی خدا تعالیٰ قبول کر لیتا ہے اور بعضوں نے کہا ہے کہ ایک رکعت نہیں دو ہی رکعت ضروری ہیں دوسری رکعت وہ بعد میں پڑھ لیں۔بہر حال قرآن مجید کا صراحتا حکم ہے کہ حفاظت کے لئے مسلمانوں میں سے آدھے کھڑے رہا کریں اور گو یہ جنگ کے وقت کی بات ہے جب ایک جماعت کی حفاظت کے لئے ضرورت ہوتی ہے لیکن اس سے استدلال کیا جا سکتا ہے کہ چھوٹے فتنہ کے انسداد کے لئے اگر چند آدمی نماز کے وقت کھڑے کر دیئے جائیں تو یہ قابل اعتراض امر نہیں بلکہ ضروری ہوگا۔اگر جنگ کے وقت ہزار میں سے پانچ سو حفاظت کے لئے کھڑے کئے جاسکتے ہیں تو کیوں معمولی خطرے کے وقت ہزار میں سے پانچ دس آدمی حفاظت کے لئے کھڑے نہیں کئے جاسکتے۔یہ کہنا کہ خطرہ غیر یقینی ہے بیہودہ بات ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہوا آپ نماز پڑھ رہے تھے مسلمان بھی نماز میں مشغول تھے کہ ایک بدمعاش شخص نے سمجھا یہ وقت حملہ کرنے کے لئے موزوں ہے وہ آگے بڑھا اور اس نے خنجر سے وار کر دیا۔اس واقعہ کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ نماز کے وقت پہرہ دینا اس کے اصول یا وقار کے خلاف ہے تو سوائے اپنی حماقت کا مظاہرہ کرنے کے اور وہ کچھ نہیں کرتا۔اسکی مثال اس بیوقوف کی سی ہے جولڑائی میں شامل ہوا اور ایک تیر اُسے آلگا جس سے خون بہنے لگا۔وہ میدان سے بھا گا اور خون پونچھتا ہوا یہ کہتا چلا گیا کہ یا السلما یہ خواب ہی ہو۔یہ شخص بھی گزشتہ واقعات کا علم رکھتا ہے بلکہ انہیں عملاً ہوتے ہوئے دیکھتا ہے مگر پھر کہتا ہے کہ یہ بات اصول کے خلاف ہے۔تاریخ سے یہ بھی