خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 67

خطبات محمود ۶۷ سال ۱۹۳۵ء نزدیک یہ بھی خدا تعالیٰ کے تو نکل کے خلاف ہوگا۔پھر اپنے بچوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مغرب کے بعد کبھی باہر نہیں نکلنے دیتے تھے کیونکہ آپ سمجھتے تھے لوگ دشمن ہیں ممکن ہے وہ بچوں پر حملہ کر دیں اور انہیں نقصان پہنچا ئیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے تو اس وقت میری ۱۹ سال عمر تھی۔۱۶، ۱۷ سال کی عمر تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے کبھی بھی مغرب کے بعد گھر سے نکلنے نہیں دیا اور اس کے بعد بھی آپ کی وفات تک میں اجازت لے کر مغرب کے بعد گھر سے جاتا۔اس کے متعلق بھی وہ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ یہ بالکل تو کل اور اصول کے خلاف امر ہے۔پھر اس سے اوپر جا کر دیکھو تو گل کے سر چشمہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی یہی حال تھا۔حدیثوں سے صاف ثابت ہے کہ روزانہ صحابہ میں سے چند لوگ آتے اور رسول کریم کی حفاظت کے لئے پہرہ دیتے۔پہلے تو وہ بغیر اسلحہ کے پہرہ دیا کرتے مگر ایک دن رسول کریم نے ہتھیاروں کے چھنکار کی آواز سنی تو آپ باہر تشریف لائے دیکھا تو صحابہ اسلحہ سے مسلح ہو کر پہرہ دینے آئے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر صحابہ نے عرض کیا کہ يَا رَسُوْلَ اللهِ کیا پستہ کوئی ایسا دشمن آ جائے جو باہتھیا ر ہو اس لئے ہم مسلح ہو کر آئے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے جب یہ سنا تو ان کی تعریف کی اور ان کے لئے دعا فرمائی۔اس آدمی کیلئے یہ بات بھی بڑی مصیبت ہوگی۔پھر صحابہ کی حالت یہ تھی کہ رسول کریم ﷺ اگر ذرا بھی اِدھر اُدھر ہو جاتے تو وہ بے تحاشہ آپ کی تلاش میں دوڑ پڑتے۔بخاری میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم یہ ایک باغ میں بیٹھے تھے ، تھوڑی دیر کے لئے آپ بغیر اطلاع دیئے اس باغ کے دوسرے کونے کی طرف چلے گئے ، صحابہ نے جب رسول کریم ﷺ کو نہ دیکھا تو وہ چاروں طرف دوڑ پڑے۔وہ مشہور حدیث جس میں آپ نے حضرت ابو ہریرہ سے کہا تھا کہ جس نے لَا اِلهَ اِلَّا اللہ کہا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔اسی وقت کی حدیث ہے اس شخص کے نزدیک وہ سارے صحابہ جو اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں دوڑے بے اصولے تھے اور ان کا دوڑنا ان کے وقار کے خلاف تھا بھلا مؤمن بھی کبھی ہل سکتا ہے۔اسی طرح جنگ کے موقع پر رسول کریم ﷺ کے اردگرد ہمیشہ ایک گارد ہوتی۔صحابہ کہتے ہیں کہ جو ہم میں سب سے زیادہ بہادر ہوتا وہ آپ کے گِر دکھڑا کیا جاتا۔گویا چن چن کر نہایت مضبوط اور توانا آدمی رسول کریم ﷺ کی حفاظت کیلئے مقرر کئے جاتے۔بدر کی جنگ میں صحابہ نے ایک عرشہ بنا دیا تھا اور رسول