خطبات محمود (جلد 16) — Page 699
خطبات محمود ۶۹۹ سال ۱۹۳۵ء حماقت ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ ایک موقع دیا ہے کہ ہم بتا دیں کہ قرآن کریم اور اسلام کی تعلیم مکمل ہے اور اس سے انسان کی سب ضرورتیں پوری ہو سکتی ہیں۔اور اگر ہم اس اصل کو چھوڑ دیں تو یہ ہمارا کھلا اعتراف شکست ہوگا کیونکہ ہم دنیا کو اپنے عمل سے یہ بتائیں گے کہ جب ہم پر مصیبت آئی تو ہم نے تسلیم کر لیا کہ بغیر قانون شکنی کے ہماری فتح نہیں ہو سکتی۔اس موقع پر ہمیں یہ ثابت کر دینا چاہئے کہ قرآن کریم نے ہمیں جو تعلیم دی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو اس کی تشریح فرمائی ہے وہی صحیح طریق عمل اور وہی کامیابی کی کلید ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہماری طرف سے قانون شکنی کی کوئی صورت نہ ہو۔مثلاً آج کی پریڈ میں میں نے دیکھا کہ اور تو سب لوگوں کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں لیکن ایک شخص کے ہاتھ میں کلہاڑی کی قسم کا کوئی ہتھیار تھا۔کل ہی اخبارات میں اعلان ہوا ہے کہ کلہاڑیاں لے کر چلنا پھرنا حکومت نے خلاف قانون قرار دے دیا ہے۔یوں تو کلہاڑیاں وغیرہ لوگ لکڑیاں پھاڑنے کے لئے گھروں میں رکھتے ہی ہیں لیکن بعض قسم کی کلہاڑیاں رکھنا یا ان کی نمائش کرنا قانون کے خلاف ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ یہ کلہاڑی جو اس دوست کے پاس تھی قانون کی زد میں آتی ہے یا نہیں لیکن مؤمن کو مواقع التہم سے بچنا چاہئے تا دشمن اُس کے افعال سے جماعت کو بد نام نہ کر سکے۔اس کلہاڑی کے متعلق تو میں نے اُسی وقت حکم دے دیا تھا کہ فوراً اس شخص سے لے لی جائے مگر آئندہ بھی کوئی شخص ایسی غلطی کر سکتا ہے اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی فعل ایسا نہ کیا جائے جو قانون شکنی کی حد میں آتا ہو۔اور قانون کے اندر رہ کر دشمن کو دکھا دیا جائے کہ قرآن کریم کی تعلیم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریح انسان کو کامیابی سے محروم نہیں کرتی بلکہ وہی حقیقی کامیابی کی کلید ہے۔دوسری نصیحت میں یہ کرتا ہوں کہ جب طبائع میں جوش ہو تو لوگ اخلاق کو بھول جاتے ہیں حالانکہ اخلاق دکھانے کا وقت وہی ہوتا ہے جب آدمی ٹھنڈے دل کے ساتھ گھر میں بیٹھا ہو تو سوائے پاگل کے کون ہے جو دوسرے سے بدخلقی سے پیش آئے۔بُرے سے بُرا آدمی بھی کبھی ایسا نہیں کرتا کہ آرام سے بیٹھا ہوا کھانا کھا رہا ہو اور باہر نکل کر محلہ والوں کو گالیاں دینے لگ جائے۔پس اچھے اخلاق کی یہی علامت ہے کہ انسان اُس وقت بھی اپنے جذبات کو قابو میں رکھے جب اُسے اشتعال دلایا جاتا ہو۔اگر احرار یہاں آئے تو اُن کی طرف سے اشتعال دلانے کی پوری کوشش کی جائے یعنی