خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 698 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 698

خطبات محمود ۶۹۸ سال ۱۹۳۵ء مگر میں نے ان کے چہروں کی طرف دیکھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ گھوڑوں اور اونٹوں پر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک یہ عزم کئے ہوئے ہے کہ یا مار دے گا یا مر جائے گا۔تو ان کی طرف تو یہ حالت تھی کہ لڑائی کے لئے جانا ان کے لئے موت تھا مگر جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجبور کیا گیا کہ جاؤ تو وہ اس موت کو بالکل حقیر سمجھنے لگ گئے بلکہ اسے ایک نعمت خیال کرنے لگ گئے۔پس ہم بھی لڑائی سے احتراز کرتے ہیں۔اور ہماری کوشش یہی ہے کہ لڑائی نہ ہولیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہم ڈرتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا امتحان کرنا نہیں چاہتے۔وہ ہمارا آقا اور مالک ہے اس لئے اُس کے سامنے ادب کے مقام پر کھڑے ہیں مگر جب وہ خود ایسے حالات پیدا کر دے جو مؤمن سے قربانی کا مطالبہ کرتے ہوں تو مؤمن سے زیادہ دلیر کوئی نہیں ہوتا۔اور دنیا کے تمام مصائب اسے ایسے حقیر نظر آتے ہیں کہ وہ انہیں پر پشہ کے برابر بھی وقعت نہیں دیتا۔بہر حال اپنے نقطہ نگاہ سے احرار سمجھتے ہیں کہ یہاں آ کر فساد کر دینا ان کے لئے بڑی کامیابی ہے۔اور ایسی صورت میں جماعت کے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ انتظام کریں۔نیشنل لیگ انتظام کر بھی رہی ہے مگر میں بھی چاہتا ہوں کہ چند نصائح کروں جو جماعت کے پیش نظر رہنی چاہئیں۔میں نے پہلے بھی کہا ہے اور آج پھر بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جماعت کو یہ امر مد نظر رکھنا چاہیے کہ جیسا کہ میں پہلے بھی کئی بار ظاہر کر چکا ہوں بعض سرکاری حکام اور احرار کا بھی منشاء یہ ہے کہ ہمیں قانون شکن بنا ئیں مگر ہمیں کبھی بھی قانون شکنی نہ کرنی چاہئے۔اسلام نے ایسے طریق بتائے ہیں کہ بغیر قانون شکنی کے ہم اپنے حقوق لے سکتے ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر قرآن کریم کے بتائے ہوئے گروں پر عمل کیا جائے تو قانون کے کامل احترام کے باوجود ان شرور کا جو خواہ حکومت کی طرف سے ہوں اور خواہ رعایا کی طرف سے ہم ازالہ کر سکتے ہیں اور اپنے لئے ترقی کے راستے کھول سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں قانون کے احترام کی تعلیم دی ہے۔اسی پر ہمیشہ دشمن اعتراض کرتا چلا آیا ہے کہ اسی طرح آپ نے اپنی جماعت کو دائی غلامی پر رضا مند رہنے کی تعلیم دی ہے۔آپ کے بعد حضرت خلیفہ اول بھی ہمیں یہی تعلیم دیتے رہے اور اب میں بھی ہمیشہ یہی کہتا رہتا ہوں اور دشمن اپنے اعتراض میں ترقی کر رہا ہے پس اللہ تعالیٰ نے اب ہمیں یہ موقع دیا ہے کہ دشمن پر ثابت کر دیں کہ بغیر قانون شکنی کے بھی ترقی ہو سکتی ہے بلکہ حقیقی ترقی صرف اسی طرح ہو سکتی ہے۔ایسے موقع کو اپنے ہاتھوں سے ضائع کر دینا