خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 686 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 686

خطبات محمود ۶۸۶ سال ۱۹۳۵ء ہمارے اور ان کے مشترک ہیں پس یہ ان پر حملہ نہیں کر سکتے۔صحابہ کرام ہمارے اور ان کے مشترک ہیں پس یہ ان پر بھی حملہ نہیں کر سکتے ، ائمہ اہل بیت ہمارے اور ان کے مشترک ہیں یہ ان پر بھی حملہ نہیں کر سکتے پس یہ ہم سے بدلہ کس طرح لے سکتے ہیں۔یہ سب کچھ درست ہے مگر میں نے بھی وہ سکیم اب سوچ لی ہے جس کے ماتحت اپنے بزرگوں کی عزتوں کو بچا کر انہیں ایسا کاری زخم لگایا جا سکتا ہے کہ جو انہیں مدتوں تک بے چین رکھے۔اسکے بعد الزام ہم پر عائد نہیں ہوگا بلکہ الزام گورنمنٹ پر عائد ہوگا یا احرار پر۔ہم نے اپنا یہ حق بھی جو دفاعی طور پر ہمیں حاصل ہے چھوڑا ہوا تھا مگر اب ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے ان گالیوں کا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی جاتی ہیں ایسا بدلہ لیں گے کہ گورنمنٹ کو بھی اپنی غلطی تسلیم کرنی پڑے گی۔اور احرار کو بھی۔اس کے ساتھ ہی اپنے بزرگوں کے متعلق ہم کسی قسم کی بے ادبی کا لفظ استعمال نہیں کریں گے۔تاریخ اسلام میں ذکر ہے کہ ایک دفعہ مکہ کے لوگوں نے رسول کریم ﷺ کے خلاف سب وشتم میں حد سے تجاوز کیا اس پر حضرت حسان بن ثابت نے عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللهِ مجھے اجازت ہو تو ان گالیوں کا جواب دوں۔آپ نے فرمایا تم جانتے ہو ، یہ سب لوگ خاندانی طور پر ہمارے خاندان سے ملے ہوئے ہیں۔کوئی پھوپھی کے ذریعہ سے، کوئی ماں کے ذریعہ سے، کوئی خالہ کے ذریعہ سے، کوئی اور کسی رشتہ کے ذریعہ سے۔اگر تم سخت الفاظ استعمال کرو گے تو وہ زدہم پر بھی تو پڑیگی۔انہوں نے کہايَا رَسُولَ اللهِ میں انہیں اس طرح الگ کرلوں گا جیسے مکھن میں سے بال نکال لیا جاتا ہے۔اسی طرح احمدی بھی ان کی گالیوں کا جواب اس طرح دیں گے کہ ہمارے بزرگوں پر کوئی آنچ نہ آئے گی اور ان کے ادب میں کوئی فرق نہ آئے گا۔اور اگر اس کے نتیجہ میں ہمارے مخالفوں نے شور مچایا تو احمدیوں کا حق ہو گا کہ وہ جواب دیں کہ جو کام ہمارے مخالف کرتے رہے ہیں اس کے کرنے کا ہمیں بھی حق ہے۔اور جس حکومت نے ہم سے امن قائم کروایا تھا اس کا فرض ہے کہ ہماری حفاظت بھی ہمارے دشمنوں سے کرے۔ہاں میں یہ بھی بتادینا چاہتا ہوں کہ امن کو توڑنے والے ہم نہیں ہوں گے بلکہ جب بھی امن ٹوٹے گا ہمارے دشمنوں کے ہاتھوں سے ٹوٹے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے صبر کر کر کے ہم کو صبر کی عادت ہوگئی ہے۔اور ہمارے آدمی انتہائی جوش کی حالت میں بھی اپنے ہاتھوں کو روک رکھنے کے عادی ہیں۔میں ہمیشہ حیران ہوتا ہوں کہ کیونکر گورنمنٹ ہم سے یہ امید کرتی چلی جاتی