خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 685 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 685

خطبات محمود ۶۸۵ سال ۱۹۳۵ء طلب نہیں کیا پس جس روپیہ کے متعلق روپیہ دینے والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جائز طور پر اشاعت اسلام کے لئے خرچ ہوا اُس کے متعلق یہ سید محمد مظہر اعتراض کرنے والا کون ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے احمدی آجکل جو چندہ دیتے ہیں اس کے متعلق احرار شور مچادیں کہ صدر انجمن احمد یہ احمدیوں کا روپیہ کھا رہی ہے اسے واپس کیوں نہیں کرتی جب روپیہ دینے والے مطمئن ہیں تو کسی اور کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے ہاں اگر اخلاق اور شریعت کے خلاف کسی جگہ روپیہ صرف کیا جائے تب لوگ اعتراض کر سکتے ہیں۔جیسے اگر کوئی شخص چندہ لیکر کنجریاں نچواتا ہے تو روپیہ دینے والوں کا حق ہے کہ اس پر اعتراض کریں۔لیکن جب روپیہ اشاعت اسلام کے لئے خرچ ہو رہا ہو اور روپیہ دینے والے مطمئن ہوں تو ایک غیر شخص کا شور مچانا سوائے بیہودگی کے اور کیا معنے رکھتا ہے۔پس یاد رکھو تم نے بغیر اخلاق اور شریعت کی حدود کو توڑے اس ہتک کا بدلہ لینا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہا ما فرمایا ہے کہ يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ۔تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کی طرف ہم آسمان سے وحی کریں گے۔پس آج جو شخص چاہتا ہے کہ وحی الہی کا مورد بنے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ سلسلہ کی عزت اور اس کے احترام کیلئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت اور احترام کے لئے ہرممکن قربانی کرنے کیلئے تیار رہے۔جب تک مخالفین کی موجودہ حالت قائم رہتی ہے ، جب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی جاتی ہیں ، جب تک حکومت اپنے فرائض سے غافل رہتی ہے ، جب تک احرار اپنی شرارتوں اور فتنہ پردازیوں سے باز نہیں آتے ، اُس وقت تک ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی جد و جہد کو برابر جاری رکھیں۔اور ہمارا فرض ہے کہ ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری قربانی کرتے چلے جائیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اطمینان اور آرام سے نہ بیٹھیں۔اور جو شخص پیشتر اس کے کہ نہ حالات کلیہ بدل جائیں اطمینان کا سانس لیتا ہے وہ بے غیرت اور ربے حمیت ہے اور اس قابل نہیں کہ احمدیت میں شامل رہے۔اُس کے لئے بہتر ہے کہ احمدیت کو ترک کر دے کیونکہ وہ مرد نہیں بلکہ خلفی ہے۔میں نے اب قطعی طور پر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر ان گالیوں کی طرف گورنمنٹ تو جہ نہیں کرے گی تو میں جماعت کو آزادی دے دوں گا کہ وہ ان ظالمانہ حملوں کا جواب دے۔ہمیں خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنے بزرگوں کی عزتوں کو بچانا آتا ہے۔احرار کو شاید یہی خیال ہو کہ رسول کریم ﷺ