خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 64

خطبات محمود ۶۴ سال ۱۹۳۵ء جماعت نے کیا ہے ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے کہ گو اس میں بعض کمزور بھی ہوں مگر اس کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جو اس بوجھ کو اٹھائے چلا جائے گا جو احمدیت کے متعلق اس پر عائد ہوتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کا مقدر پورا ہو۔کبھی کسی جماعت میں سارے مؤمن نہیں ہوئے بلکہ کچھ حصہ منافقین کا بھی ہوتا ہے۔خود رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں تمام وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے مخلص نہیں تھے بلکہ منافق بھی تھے۔پھر بہت سا حصہ جہاں قربانیاں کرتا وہاں ایک حصہ ایسا بھی تھا جو اسلام کے لئے قربانی کرنے پر تیار نہیں تھا حالانکہ اس موقع پر قربانیوں کے لئے ننگے ہو کر سامنے آنے کے بہت سے مواقع تھے لیکن اب ایک منظم اور قانون پر چلنے والی گورنمنٹ کی ماتحتی کی وجہ سے منافق اور غیر منافق میں تمیز کرنا بہت مشکل ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جو شخص بھی ایمان لاتا اسے یہ ظاہر کرنا پڑتا کہ اس کی گردن اسلام کے لئے حاضر ہے اسے کاٹ لیا جائے مگر آج بعض لوگوں کو احمدی ہوئے ہیں ہیں سال گزر گئے مگر بوجہ ایک منظم گورنمنٹ کے ماتحت ہونے کے انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچی۔گو ہزار ہا ایسے بھی ہیں جو احمدیت کی وجہ سے مارے پیٹے گئے ، انہیں اپنی جائیدادوں سے بے دخل کر دیا گیا ، ان کی بیویوں اور بچوں کو چھین لیا گیا اور ان کی عزتوں اور آبروؤں پر حملہ کیا گیا لیکن ایک حصہ ایسا بھی ہو گا اور یقیناً ہے جسے مخالفوں کی طرف سے کوئی قابل ذکر تکلیف نہیں پہنچی۔پس آج جبکہ جماعت کے ایک حصہ کو سالہا سال سے کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچی کچھ منافق بھی ہماری جماعت میں شامل ہو جائیں تو ان کا پتہ لگانے کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔مگر رسول کریم اللہ کے زمانہ میں مخالفت اتنی کھلی تھی اور مخالفت بھی تلوار کی مخالفت کہ جو شخص اسلام قبول کرتا اسے اپنی جان قربان کر کے اسلام میں شامل ہونا پڑتا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے باوجود بھی اس وقت منافق موجود تھے۔تو موجودہ زمانہ میں ایسے لوگوں کی جماعت احمد یہ میں شمولیت کوئی بڑی بات نہیں ہو سکتی۔پس کمزوروں کی کمزوری نہیں دیکھنی چاہئے بلکہ مخلصوں کا اخلاص دیکھنا چاہئے اور یہ کہ وہ اخلاص کس حد تک پہنچا ہوا ہے۔اور اگر معلوم ہو کہ سلسلہ میں ایسے مخلصین موجود ہیں جو اپنی جان، اپنا مال ، اپنی عزت ، اپنی آبرو، اپنا آرام اور اپنی آسائش سب کچھ قربان کر کے سلسلہ کے پھیلانے اور اس کے اصول کو دنیا میں رائج کرنے کے لئے ہر وقت بے قرار رہتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کا مادہ اپنے