خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 670 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 670

خطبات محمود ۶۷۰ سال ۱۹۳۵ء طرح اہل ہو نگے کسی ملازمت کے لئے پیش ہونگے یا تا جرٹھیکوں کے لئے جا ئینگے تو سرکاری افسر اس سرکلر کے اثر سے ان کے حقوق کو نظر انداز کر دیں گے۔یا اگر کسی جگہ احمدیوں کو مخالفین سلسلہ کی طرف سے تکلیف پہنچی اور وہ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے پاس شکایت لے کر گئے تو وہ اپنے دل میں کہے گا کہ یہ لوگ گورنمنٹ کی نظر میں مشتبہ ہیں انہیں اور زیادہ ذلیل ہونے دو۔بے شک ہم اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ہمیں دُکھ دیا جائے مگر اس سرکلر کی موجودگی میں ہم اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتے کہ حکومت کے ساتھ ہمارے تعلقات درست ہو چکے ہیں۔بعض افسر اس سرکلر کا انکار کرتے ہیں لیکن ہم ان پر یہ نیک ظن کر سکتے ہیں کہ ان کو اس کا علم نہیں۔لیکن ہم یہ نہیں مان سکتے کہ ایسا کوئی سرکلر تھا بھی نہیں۔کیونکہ بعض افسروں نے خود اس کا ذکر بعض احمد یوں سے کیا ہے اور اُس کے الفاظ تک بتائے ہیں اور یہ علم انگریز افسروں کی زبانی بھی ہمیں حاصل ہوا ہے۔مجھے اس انکار پر ایک اور واقعہ یاد آتا ہے۔ایک دفعہ اسمبلی میں ایک سوال پیش ہوا۔وائسرائے نے ایک خط ہوم ممبر کی طرف سے لکھا تھا یا ہوم ممبر نے کوئی خط وائسرائے کولکھا تھا مجھے صحیح طور پر یاد نہیں پنڈت مدن موہن مالویہ نے سوال کر دیا کہ کیا ایسی کوئی بات ہوئی ہے۔اس پر جھٹ گورنمنٹ کے ایک ذمہ دار افسر نے کہہ دیا کہ یہ بالکل غلط ہے ، ایسا کوئی خط نہیں لکھا گیا۔انہوں نے آگے سے اس خط کا مضمون اور تفصیلات سنا دیں۔تب تو وہ افسر صاحب بہت ہی گھبرائے اور کہنے لگے یہ تو ایک پرائیویٹ خط تھا۔پنڈت مدن موہن مالویہ نے کہا پرائیویٹ تھا یا غیر پرائیویٹ۔سوال تو یہ تھا کہ کیا ایسا کوئی خط لکھا گیا یا نہیں ؟ تو ہمیں کئی اضلاع سے یقینی طور پر معلوم ہوا کہ ایسا سرکلر حکومت نے جاری کیا بلکہ ایک جگہ پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل مجلس شوری کے موقع پر ضلع راوالپنڈی کے ایک گاؤں میں گیا۔اس نے وہاں کے احمدیوں سے اقرار لیا کہ وہ مجلس شوری پر بغیر پولیس کو اطلاع کئے نہیں جائیں گے۔جب انہوں نے اس بات کی ہمیں اطلاع دی اور ہماری طرف سے مقامی کارکنان کو اس کی تحقیق کی ہدایت کی گئی تو انہیں پولیس کے افسروں نے جواب دیا کہ اصل بات یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے ایک خفیہ چٹھی آئی تھی کہ اس امر کی نگرانی رکھی جائے مگر پولیس کا ایک چھوٹا افسر اسے سمجھا نہیں اور اُس نے بجائے مخفی خیال رکھنے کے جا کر احمدیوں سے ذکر کر دیا۔اب آپ اس پر زیادہ شور نہ کریں کہ ہماری بد نامی ہوتی ہے۔اب ان تمام امور کے بعد سرکلر کے