خطبات محمود (جلد 16) — Page 669
خطبات محمود ۶۶۹ سال ۱۹۳۵ء حکومت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور ایک حصہ احرار کے ساتھ۔حکومت کے ساتھ جس حصہ کا تعلق ہے اس کی میں زیادہ تفصیل نہیں کر سکتا۔میں نے کہا تھا کہ بعض قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کو اس بات کا احساس ہوا ہے کہ اس کے بعض افسروں سے غلطیاں ہوئیں۔اس لئے میں اس بات کو طول دینا نہیں چاہتا لیکن اختصار کے ساتھ یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ یہ احساس اس حد تک نہیں کہ ہماری مشکلات اس سے دور ہوسکیں۔مثال کے طور پر میں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔گزشتہ ایام میں جب نیشنل لیگ کا ایک جلسہ یہاں ہوا تو افسرانِ بالا کو یہ جھوٹی رپورٹ کی گئی کہ ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کو اس جلسہ میں حرامزادہ کہا گیا ہے۔یہ بالکل جھوٹ اور افترا تھا حتی کہ رپورٹ کرنے والے ایک پولیس کے آدمی سے جب ہمارے ایک دوست نے علیحدگی میں دریافت کیا کہ تم خدا کو حاضر ناظر جان کر بتاؤ کہ کیا واقعی ڈپٹی کمشنر کو حرام زادہ کہا گیا تھا ؟ تو اس نے کہا کہ نہیں۔پھر اُس نے پوچھا کہ پھر آپ لوگوں نے ایسی رپورٹ کیوں کی ؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ سیاسی باتیں ہیں میں اس کے متعلق کچھ بتا نہیں سکتا۔گورنمنٹ چونکہ اپنے ماتحتوں پر اعتبار کرتی ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا تھا وہ ایک حد تک اس میں معذور بھی ہے کیونکہ بڑے افسروں کو چھوٹے افسروں پر اعتماد کرنا ہی پڑتا ہے اس لئے اس بات کے ساتھ بعض دوسری باتوں کو ملا کر گورنمنٹ نے ایک خفیہ سرکلر جاری کیا جو تقریباً تمام ضلعوں کے ڈپٹی کمشنروں کے نام بھیجا گیا کہ جماعت احمدیہ کی حالت گورنمنٹ کی نگاہ میں مشتبہہ۔اس لئے اس کے افراد کا خیال رکھنا چاہئے۔یہ تمام سر کلر تمام ضلعوں کے ڈپٹی کمشنروں کو یا اکثر اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو بھیجا گیا کیونکہ متفرق جگہوں سے اس سرکلر کی تصدیق ہوئی ہے۔میں نام نہیں لے سکتا لیکن ایک جگہ سے تو اس سرکلر کے الفاظ تک ہمیں معلوم ہو گئے تھے اب اگر گورنمنٹ کے بعض افسروں کے خیال میں تبدیلی بھی ہو گئی ہے تو چونکہ حکومت کی طرف سے ایک سرکلر جاری ہو چکا ہے اس لئے بالعموم افسر اس سرکلر کا خیال رکھیں گے اور ملازمتوں اور ٹھیکوں وغیرہ میں ہماری جماعت کے افراد کے حقوق کو پامال کیا جائیگا۔چنانچہ بعض جگہ ایسا بھی ہوا کہ بعض احمدی جو اچھے قابل تھے ان کے حقوق کو افسرانِ بالا کی طرف سے نظر انداز کر دیا گیا جو پہلے حالات کے لحاظ سے ناممکن تھا۔پس جب تک ایسا سر کلر قائم ہے اُس وقت تک بعض افسروں کے خیالات کی تبدیلی ہماری جماعت کو کیا فائدہ پہنچا سکتی ہے۔اس سرکلر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب ہماری جماعت کے نوجوان جولیاقت اور قابلیت کے لحاظ سے ہر ہے