خطبات محمود (جلد 16) — Page 62
خطبات محمود ۶۲ سال ۱۹۳۵ء ہوئے۔۱۹۰۶ ء میں حکومت ہند کے محکمہ مالیات و زراعت میں انڈر سیکرٹری اور ۱۹۱۰ ء تا ۱۹۱۴ء سیکرٹری رہے۔۱۹۱۵ ء تا ۱۹۱۸ء محکمہ تعلیم سے تعلق رہا۔۱۹۱۹ ء تا ۱۹۲۱ء پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر اور ۱۹۲۱ء تا ۱۹۲۴ء گورنر رہے۔سی ایس آئی ، کے سی آئی ای اور کے سی ایس آئی کے خطابات کے حامل تھے۔(اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحہ ۱۹۷۷ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء) سر میلکم ہیلی۔پیدائش ۱۸۷۲ء۔۱۹۰۲ء میں آئی سی ایس جہلم میں آباد کاری کے افسر مقرر ہوئے۔۱۹۰۷ ء میں حکومت پنجاب کے سیکرٹری بنے۔۱۹۰۸ء میں حکومت ہند کے ڈپٹی سیکرٹری بنے۔۱۹۱۲ ء تا ۱۹۱۹ ء چیف کمشنر دہلی رہے۔۱۹۱۹ء تا ۱۹۲۲ ء حکومت ہند کے فنانس ممبر ر ہے۔۱۹۲۲ء تا ۱۹۲۴ ء ہوم ممبر رہے۔گورنر پنجاب اور گورنر یو پی بھی رہے۔ان کا شمار نہایت قابل انگریز افسروں میں ہوتا ہے۔(اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحہ ۱۸۸۵ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء) لارڈ ولنگڈن۔مدراس اور بمبئی کے گورنر پھر ۱۹۳۱ء تا ۱۹۳۶ ء وائسرائے ہند رہے۔دوسری اور تیسری گول میز کانفرنس ان ہی کے عہد میں لندن میں ہوئی۔(اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحہ ۱۸۱۰ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء) ۵ رولٹ ایکٹ۔۱۹۱۹ ء میں جنگ عظیم کے بعد ہندوستان میں تحریک آزادی کی ایک لہر پیدا ہوئی جسے روکنے کے لئے جسٹس رولٹ کی صدارت میں ایک کمیٹی قائم ہوئی۔کمیٹی کی رپورٹ پر ایسا قانون بنایا گیا جس کی رُو سے حکومت کو تخریبی کارروائیاں روکنے کے لئے وسیع اختیارات مل گئے۔اس قانون کو رولٹ ایکٹ کا نام دیا گیا۔لارڈ چیمسفورڈ۔جنگ عظیم کے دوران لارڈ ہارڈنگ کے چلے جانے پر لارڈ چیمسفورڈ ۱۹۱۶ ء میں ہندوستان تشریف لائے اور ۱۹۱۶ء سے ۱۹۲۱ ء تک وائسرائے رہے۔انہوں نے جنگ عظیم میں فوج اور سامانِ جنگ بھیجنے کا سلسلہ بدستور جاری رکھا۔( یونیورسٹی ہسٹری آف انڈیا صفحہ ۳۶۵ مطبوعہ لا ہور )