خطبات محمود (جلد 16) — Page 654
خطبات محمود ۶۵۴ سال ۱۹۳۵ء اسلام کا تو کوئی گھر نہیں اور ہمارے آقا وسردار محمد مصطفے ﷺ کو تو علی الاعلان گالیاں دی جاتی ہیں مگر مسلمانوں میں طاقت نہیں کہ اس کا ازالہ کر سکیں۔اس حالت کا علاج ایک ہی صورت میں ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ پھر ایک آواز آسمان سے اُٹھائے جو پھر اسلام کی عزت قائم کرے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ امت محمدیہ کے دل اور ہاتھ مفلوج ہو چکے ہیں اور ان کے اندر عشق کی آگ نہیں رہی تو اُس نے اپنا ماً مور بھیج دیا تا دائمی غیرت مسلمانوں کے اندر پیدا کرے۔6 عارضی غیرت بھی دنیا میں بڑے بڑے کام کرا لیتی ہے جیسے بغداد کے برائے نام بادشاہ سے کرادیا مگر یہ غیرت ایمان کی علامت نہیں۔اگر ایمانی غیرت ہوتی تو اسلام کے دن اُسی وقت پھر جاتے مگر انہوں نے عورت کو چھڑایا اور پھر سو گئے۔ایسی عارضی غیرت سے اسلام زندہ نہیں ہوسکتا۔اسلام اُس غیرت سے زندہ ہوتا ہے جو کبھی مٹ نہ سکے۔اُس آگ سے زندہ ہوسکتا ہے جو کبھی سرد نہ ہو سکے جب تک کہ سارے جہاں کو جلا کر راکھ نہ کر دے۔اس زخمی دل سے ہوسکتا ہے جو کبھی اند مال نہ پائے ،اُسے وہ دیوانہ زندہ کر سکتا ہے جس کی دیوانگی پر ہزار فرزانگیاں قربان کی جاسکیں۔یہی دیوانگی پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے۔اور اسی روح کو آپ کی زندگی میں ہم نے مشاہدہ کیا۔آپ کے اندر سوتے ، جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے ، کھاتے پیتے ، چلتے پھرتے ہم نے دیکھا کہ ایک آگ تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ محمد رسول ﷺ کی عزت کو دنیا میں دوبارہ قائم کیا جا سکے۔آج نادان اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسول کریم کی ہتک کی۔مگر ہمیں تو معلوم ہے کہ آپ کو کس طرح ہر وقت آنحضرت ﷺ کی عزت قائم کرنے کی دُھن لگی رہتی تھی۔مجھے ایک بات یاد ہے جو گو اُس وقت تو مجھے بڑی ہی لگی تھی مگر آج اس میں بھی ایک لذت محسوس کرتا ہوں۔ہمارے بڑے بھائی میرزا سلطان احمد صاحب مرحوم ایک دفعہ باہر سے یہاں آئے۔ابھی تک اُنہوں نے بیعت کا اعلان نہیں کیا تھا۔میں اُن سے ملنے گیا میرے بیٹھے بیٹھے ہی ڈاک آئی۔اُس زمانہ میں توہینِ مذاہب کے قانون کا مسودہ تیار ہو رہا تھا۔اس سے بات چل پڑی تو مرزا سلطان احمد صاحب کہنے لگے اچھا ہوا بڑے مرزا صاحب فوت ہو گئے۔(وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بڑے مرزا صاحب کہا کرتے تھے ) ورنہ سب سے پہلے وہ جیل جاتے کیونکہ اُنہوں نے حضرت رسول کریم ﷺ کی توہین کو برداشت نہیں کرنا تھا۔اُس وقت تو یہ بات