خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 653 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 653

خطبات محمود ۶۵۳ سال ۱۹۳۵ء حالت جو آج اسلام کی ہے اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کون اس کا علاج کر سکتا ہے۔اس سے زیادہ تکلیف دہ نظارہ دنیا میں اور کیا ہوسکتا ہے۔بچپن میں ہم ایک واقعہ کتابوں میں پڑھتے تھے اور اسے پڑھکر آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے مگر اُس واقعہ کو اس نظارہ سے کوئی نسبت ہی نہیں۔بیسیوں نے آپ لوگوں میں سے اُس واقعہ کو پڑھا ہوگا اور اُس پر آنسو بہائے ہونگے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ رونے کی بات تو اسلام کی موجودہ حالت ہے باقی سب اس کے سامنے بیچ ہے۔وہ سید انشاء کا واقعہ ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ ان کی عزت اس قدر تھی کہ لکھنو کے بادشاہ اور رؤساء کے ہاتھی آ کر اُن کے دروازہ پر کھڑے رہتے تھے۔اور جب وہ دربار میں جاتے تو ایسے ناز سے بیٹھتے کہ دیکھنے والے سمجھتے بے ادبی کر رہے ہیں۔ان کے ایک دوست کہتے ہیں کہ میں نے ان کے عروج کا یہ زمانہ دیکھا۔اس کے عرصہ بعد پھر میں ایک بار لکھنو آیا ایک مشاعرہ تھا، ہمیں بھی وہاں پہنچا اور دیکھا کہ ایک گدڑی پوش نہایت خستہ حالت میں مجلس میں آیا اور جوتیوں میں بیٹھ گیا۔لوگوں نے عرض کیا کہ قبلہ آگے آئے۔اس طرح ہوتے ہوئے ان کی آمد کی اطلاع صدرنشین نوابوں اور رئیسوں تک پہنچی اور لوگ انہیں کھینچ کر صدر تک لے آئے۔وہ صاحب کہتے ہیں میں نے ایک دوست سے پوچھا کہ یہ صاحب کون ہیں ؟ تو اُس نے بتایا کہ یہ وہی تمہارے پُرانے دوست انشاء اللہ ہیں اور کون ہیں۔میں بہت حیران ہوا اور پوچھا کہ ان کی یہ حالت ؟ مجھے بتایا گیا کہ جب سے بادشاہ کی نظر پھری ہے یہ حالت ہو گئی ہے۔سید صاحب نے اپنی غزل پڑھی اور اسے وہیں پھینک کر ر بودگی کی حالت میں چلے گئے۔اس پر میں بھی ان کے پیچھے پیچھے اُن کے مکان پر گیا۔وہاں ہاتھی تو کجا اب کوئی دربان بھی نہ تھا۔میں نے آواز دی کہ کیا میں آ سکتا ہوں؟ اس پر اندر سے آواز آئی کہ بھائی ! تمہیں کون جواب دے۔میں بھی تمہاری بہن ہی ہوں آ جاؤ۔یہ سید انشاء اللہ کی بیوی تھیں۔میں اندر گیا تو سید انشاء کو ریت کے ایک تو وہ پر سر رکھ کر لیٹے ہوئے پایا۔نیچے ایک پھٹی ہوئی دری بچھی تھی یہ کس قد رعبرت کا مقام ہے۔مگر کیا اسلام کی حالت آج اس سے کم عبرتناک ہے ؟ سید انشاء اللہ خان کی عزت کیا تھی ؟ لکھنو کے ایک بادشاہ کی دی ہوئی عزت تھی مگر اسلام تو ساری دنیا کی بادشاہتوں پر غالب آ گیا تھا اور سب دنیا پر چھا گیا تھا۔پھر انشاء کا اس حالت میں بھی کوئی گھر تو تھا اور انہیں گالیاں تو نہیں دی جاتی تھیں مگر آج۔