خطبات محمود (جلد 16) — Page 642
خطبات محمود ۶۴۲ سال ۱۹۳۵ء ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ ہم میں سے ہر شخص قرآن کریم کا ترجمہ اور اس کا مفہوم جانتا ہو۔بڑی عمر کے لوگوں کو جانے دو، گو میں نہیں سمجھ سکتا کہ انہیں کیوں جانے دیا جائے وہ بھی اگر پڑھنا چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں لیکن کم از کم آئندہ نسلوں کو تو اِس بات سے محروم نہ رکھو۔جہاں جہاں ہماری جماعتیں قائم ہیں وہاں کی جماعتوں کو بالالتزام اپنے بچوں کو قرآن کریم پڑھانا چاہئے اور جہاں اس قسم کا التزام نہیں ہوسکتا وہاں کی جماعتوں کو چاہئے کہ رُخصت کے ایام میں اپنے بچوں کو قادیان بھیج دیں۔ہم ان کی قرآنی تعلیم کا انتظام کر دیں گے لیکن اگر نہ تو وہ خود اپنی جماعت میں قرآن کریم پڑھانے کا التزام کریں اور نہ چھٹیوں میں اپنے قرآن کریم پڑھنے کے لئے قادیان بھیجیں تو پھر ہم پر کوئی الزام نہیں ان پر یہ الزام عائد ہو گا کہ انہوں نے ایک اچھے موقع کو ضائع کر دیا۔پس میں تمام جماعت کو تو جہ دلاتا ہوں کہ وہ بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کی طرف توجہ کرے۔باہر بھی ایسے لوگ مل سکتے ہیں جو قرآن کریم پڑھا سکتے اور اپنے اوقات خرچ کر سکتے ہوں۔لیکن جہاں قرآن کریم پڑھانے والے نہ مل سکیں وہاں کے لوگوں کو چاہئے کہ مرکز سے ایسے معلم منگوا لیں۔مگر یہ نہیں کہ انہیں سال دو سال رکھا جائے بلکہ مہینہ دو مہینے یا تین مہینے میں ان سے قرآن پڑھ لینا چاہئے۔مجھے حضرت خلیفہ اول نے ایک مہینہ میں قرآن کریم ختم کر دیا تھا لیکن میں کہتا ہوں اگر کوئی ایک مہینہ میں قرآن کریم نہیں پڑھ سکتا تو دو مہینے میں پڑھ لے۔دو مہینے میں نہیں پڑھ سکتا تو تین مہینے لگا کر پڑھے۔اس سے زیادہ وقت تو کسی صورت میں صرف نہیں ہو سکتا۔باقی ترقی کے لئے گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔جب رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ دعا مانگا کرو کہ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔اے خدا امیر اعلم بڑھا تو ہم کون ہیں جو کہہ سکیں کہ ہماری ترقی کے لئے گنجائش نہیں۔ہاں اتنی استعداد اس عرصہ میں ضرور پیدا ہوسکتی ہے کہ انسان قرآن کریم کو سمجھ لے۔پھر آگے اس کے علوم کو دنیا میں پھیلانے کا کام ہے ، اس کے لئے تربیت کی ضرورت ہے۔اور یہ بھی ایک اہم کام ہے مگر افسوس کہ ہمارے ملک نے ابھی تک تربیت کی ضرورت نہیں سمجھی۔دنیا میں تعلیم دینے والے مل جائیں گے مگر تربیت کرنے والے ڈھونڈ نے پر بھی مشکل سے ملیں گے۔گورنمنٹ نے بھی تعلیم کے لئے بیسیوں کا لج کھول رکھے ہیں، سکول اور مدر سے ہیں۔جے اے وی ، ایس اے وی اور بی ٹی کے لئے ٹریننگ دی جاتی ہے لیکن جو سب سے زیادہ نازک کام ہے یعنی تربیت ، اس کے لئے کالج نہیں کھولے۔حالانکہ جب تک نئی