خطبات محمود (جلد 16) — Page 626
خطبات محمود ۶۲۶ سال ۱۹۳۵ء۔ہوکر سل دق کا شکار ہونے والے بہت زیادہ ہیں۔پس جو لوگ اپنی اصلاح نہیں کر سکتے انہیں کم از کم اپنی اولاد کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔مگر میں کہتا ہوں یہ کیوں کہا جائے کہ فلاں شخص اپنی اصلاح نہیں کر سکتا۔ہر شخص ہر عمر میں اپنی اصلاح کر سکتا اور نیکیوں میں ترقی کر سکتا ہے۔لوگوں کو چاہئے کہ وہ ہر جگہ ایسی سوسائٹیاں اور انجمنیں بنائیں جو مفید کام کرنے والی ہوں۔ہر محلہ میں اگر کچھ لوگ کھڑے ہو جائیں جو بیواؤں کو سودا سلف لا دیا کریں یا یتیم بچوں کی نگرانی کریں تو یہی بہت بڑا کام ہے۔تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تمہیں یہ کام کرنے آتے نہیں۔تم میں سے جسے ایک حرف پڑھنا بھی نہیں آتا وہ بھی یہ کام کر سکتا ہے۔کیا وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ جب وہ اپنا سو دالینے جائے تو اپنے محلہ کی بیواؤں یا معذور عورتوں سے بھی پوچھتا جائے کہ انہوں نے کوئی سودا تو نہیں منگوا نا۔اور پھر اپنے سو دے کے ساتھ اس کا سودا بھی لیتا آئے آخر اس سے کونسا ایسا زائد بوجھ پڑ سکتا ہے جو انسان اُٹھا نہیں سکتا گلی میں سے گزرتے ہوئے اگر انسان کسی بیوہ کے دروازہ پر دستک دے کر دریافت کر لے کہ بازار سے کوئی سودا تو نہیں منگوانا۔یا کوئی یتیم گزر رہا ہو تو اسے پیار کر دے تو اس پر کونسا وقت خرچ ہوتا ہے۔یتامی کی خرابی کی بڑی وجہ یہ ہوا کرتی ہے کہ انہیں پیار کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔اگر تم اپنے بچہ کو پیار کرتے وقت کسی یتیم کے سر پر بھی ہاتھ پھیر دیتے ہو تو اس پر ایک منٹ بھی نہیں لگتا۔مگر کتنے ہیں جو یہ کام کرتے ہیں۔یتیم کی طرف اگر ایک دفعہ بھی محبت کی نگاہ سے دیکھ لیا جائے تو وہ ہمیشہ کیلئے منون احسان ہو جاتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ روٹی ایک ضروری چیز ہے اور جب تک انسان روٹی نہ کھائے وہ بھوک سے تکلیف پاتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ پانی ایک لطف دینے والی چیز ہے اور اگر انسان پانی نہ بیٹے تو پیاسا رہتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ کپڑے ایک اچھی چیز ہیں اور انسان اگر کپڑے نہ پہنے تو ننگا رہتا ہے۔اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ اچھی روٹی ، اچھے پانی اور اچھے کپڑے کی طرف سب کو رغبت ہوتی ہے لیکن ان سب سے بڑھ کر ایک محبت کرنے والے ہاتھ کی یتیم کو ضرورت ہوتی ہے۔تم ایک یتیم کو اچھی سے اچھی غذا ئیں کھلا کر اور اعلیٰ سے اعلیٰ کپڑے پہنا کر خوش نہیں کر سکتے لیکن اگر ایک غریب اور فقیر انسان اپنا محبت بھرا ہاتھ اس کے سر پر رکھ دے تو وہ خوش ہو جائے گا مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسا کرنے کی تم میں طاقت نہیں۔یا کوئی ہے جو کہہ سکے کہ اس قسم کے کاموں کے لئے اُس کے پاس وقت نہیں۔پس اپنے آپ کو دنیا کے لئے مفید ترین وجود بناؤ۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا