خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 615

خطبات محمود ۶۱۵ ۳۸ سال ۱۹۳۵ء مؤمن اور غیر مؤمن کے آرام میں فرق (فرموده ۱۸ /اکتوبر ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اورسورۃ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں اس امر کے متعلق بعض باتیں بیان کی تھیں کہ مؤمن کے آرام اور دوسرے لوگوں کے آرام میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔لوگ آرام کو کام کا ایسا نتیجہ قرار دیتے ہیں جو کام کے ختم ہونے کے بعد آتا ہے لیکن اسلام آرام اس کیفیت کا نام رکھتا ہے جو کام کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے مثلاً صدقہ کرنے والا جب صدقہ کرتا ہے تو لوگوں کی نگاہ میں آرام کا یہ مطلب ہے کہ اسے کچھ دیر کے لئے صدقہ سے نجات مل گئی۔لیکن اسلام اس بات کو آرام قرار نہیں دیتا بلکہ صدقہ کرتے وقت انسان جو یہ خوشی محسوس کرتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے ایک حکم کے بجالانے اور اپنے غریب بھائی کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے یہ آرام ہے۔غرض ہر کام کرتے وقت جو سرور کی کیفیت انسانی دل میں پیدا ہوتی ہے اُس کا نام آرام ہے۔اور جس کو لوگ آرام کہتے ہیں یعنی کام کا ترک کر دینا اسے قرآن مجید آرام نہیں بلکہ سستی ،غفلت اور کسل قرار دیتا ہے۔مثلاً جب انسان ایک نماز پڑھ لے اور پھر دوسری نماز کے لئے اپنے دل پر بوجھ محسوس کرے اور کہے کہ ابھی تو ایک نماز پڑھ کر آیا ہوں اور یہ دوسری پھر پڑھنی پڑ گئی تو یہ کسل ہو گا چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرما تا ہے کہ منافق جب نمازوں کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کی ایسی حالت ہوتی ہے کہ قاموا کسالی ان کے دلوں پر بوجھ ہوتا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسی مصیبت پڑ گئی۔تو منافق کا نقطہ نگاہ یہ ہو