خطبات محمود (جلد 16) — Page 614
خطبات محمود ۶۱۴ سال ۱۹۳۵ء نیند آتی ہے نہ اونگھ۔مگر جب تم خدا کے متعلق یہ تسلیم کرتے ہو کہ وہ نہ سوتا ہے نہ اونگھتا تو کیا تم سمجھتے ہو که خدا نَعُوذُ بِاللهِ دُکھ میں ہے۔اگر نہیں تو پھر جب تم بھی خدا کی مانند ہونا چاہتے ہو تو کس طرح ممکن ہے کہ تم سمجھ لو کہ تمہارے لئے آرام کا زمانہ اس طرح آ سکتا ہے کہ تم قربانی اور خدمت سے بیچ جاؤ۔جس خدا کا مثیل بنی آدم کو بنانے کے لئے خدا تعالیٰ کے انبیاء دنیا میں آتے رہے ، اس خدا کے متعلق تو قرآن مجید نے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ وہ نہ سوتا ہے نہ اونگھتا اور جبکہ تمہارا کام بھی یہی ہے کہ تم خدا نما بنو اور اُس کے مظہر کامل کہلاؤ تو جس طرح خدا کے لئے کوئی نیند نہیں ، اس کے لئے کوئی اونگھ غفلت اور سُستی نہیں اسی طرح تمہارے اندر بھی نہ نیند ہو ، نہ اونگھ ، نہ سستی ، نہ غفلت۔اس کے مقابلہ میں شیطان کا یہ کام ہے کہ وہ سوتا ہے اور اونگھتا ہے۔لیکن خدا تو وہ ہے جو نہ سوتا ہے نہ اونگھتا ہے پس اگر تم حقیقی آرام چاہتے ہو تو آرام کے معنی سمجھو۔اور یاد رکھو کہ آرام کے یہی معنی ہیں کہ جس طرح خدا اپنی مخلوق کی خیر خواہی اور بھلائی میں ہر وقت لگا رہتا ہے اسی طرح مؤمن کو بھی چاہئے کہ وہ ہر وقت بنی نوع انسان کی بھلائی اور بہبودی کے کاموں میں مصروف رہے کیونکہ جتنا زیادہ کسی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے کا موقع ملتا ہے اسی قدر زیادہ وہ آرام محسوس کرتا ہے۔(الفضل ۱۹ اکتوبر ۱۹۳۵ء) ل الانشراح: ۲ تا آخر متی باب ۱۵ آیت ۲۱ تا ۲۶ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ مفہوماً الاعراف : ۱۵۹ المائدة : ۲۵ العلق : ٢، ٣ ه التوبة : ٤٠ کے گلتیوں باب ۳ آیت ۱۳ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمُ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ (المائدة: ۸۴) و گلتیوں باب ۳ آیت ۱۳ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء ا الى البقرة : ۲۱۵ تذکرہ صفحہ ۴۲۰۔ایڈیشن چہارم ١٣ التوبة: ٣٢ البقرة: ۲۵۶