خطبات محمود (جلد 16) — Page 601
خطبات محمود ۶۰۱ سال ۱۹۳۵ء کچھ کم ہے ؟ یہ احسان جو رسول کریم ﷺ کے ساتھ کیا گیا صرف آپ کے ساتھ ہی احسان نہ تھا بلکہ ساری دنیا پر احسان ہے۔کونسا انسان ایسا ہے جسے خدا تعالیٰ نے اس احسان سے محروم رکھا یا کونسا ایسا مذہب یا ملک یا جماعت ہے جسے یہ کہ دیا گیا ہو کہ محمد ﷺ کے اس انعام میں تم حصہ دار نہیں۔جب حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے پاس ایک کنعانی عورت آئی اور اُس نے کہا اے اُستاد ! مجھ پر رحم کر۔جو تعلیم تو دوسرے لوگوں کو دیتا ہے اُس سے مجھے بھی فائدہ اُٹھانے دے۔تو اُسے یہ جواب دیا گیا کہ لڑکوں کی روٹی لے کر گتوں کو ڈال دینی اچھی نہیں سم اور جیسا کہ عیسائی کتب سے معلوم ہوتا ہے وہ عورت دل شکستہ ہو کر واپس چلی گئی مگر رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالی کی طرف سے جو تعلیم ملی اس کے لئے کوئی حد بندی نہیں۔اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے جا اور ساری دنیا کو یہ پیغام سنا دے کہ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِیعاً میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول بن کر آیا ہوں۔کوئی قوم ایسی نہیں جو میرے دائرہ ہدایت سے باہر ہو۔میرا دستر خوان ہر شخص کے لئے کھلا ہے۔جو چاہے اپنی روحانی غذا کا سامان اس سے حاصل کرے۔پس ہم میں سے کون ہے جو یہ کہے کہ خدا کی یہ آواز میرے کانوں نے نہیں سنی۔یا خدا تعالیٰ کا محبت بھرا ہاتھ میری طرف بڑھا یا نہیں گیا۔اور اگر خدا تعالیٰ اپنی شہر میں آواز سنائے اور انسان اپنے کانوں میں روئی ڈال لے یا خدا تعالیٰ اپنا محبت بھرا ہاتھ بڑھائے اور انسان اپنے ہاتھ کو کھینچ لے تو ایسے انسان کا علاج کیا ہوسکتا ہے اور کیونکر یہ شکوہ کرسکتا ہے کہ اسے ہدایت نہیں ملی۔غیروں کو جانے دو۔ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ نے اس وقت اپنے تازہ کلام کے سننے کا موقع دیا ہے۔وہ خدا جس نے حرا میں رسول کریم ﷺ سے کہا کہ جا اور دنیا کو ہدایت دے، وہ خدا جس نے جبریل کی معرفت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیغام پہنچایا کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِى | خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ہے وہ خدا جس نے غار ثور میں آنحضرت ﷺ سے یہ فرمایا کہ کے اپنے ساتھی سے کہہ دے ڈر کی کوئی بات نہیں۔اِنَّ اللهَ مَعَنَا اللہ ہمارے ساتھ ہے، وہ خدا جس کی وحی مدینہ میں بھی جا کر نازل ہوئی اور اس نے خبر دی کہ ساری دنیا ایک دن اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع ہونے والی ہے اور قیصر و کسریٰ کی حکومتیں پاش پاش ہو جائیں گی کیا اسی خدا نے دوبار ہمیں آواز نہیں دی ؟ اور کیا وہی شیریں آواز ایک بار پھر ہمارے لئے بلند نہیں کی گئی ؟ وہ پیاری آواز