خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 600

خطبات محمود ۶۰۰ سال ۱۹۳۵ء چلئے تو وہ زیادہ توجہ سے اُس کی طرف متوجہ ہو گیا۔اور اُس نے پوچھا کیا آپ لیفٹینٹ ہیں؟ بادشاہ نے کہا ذرا اور اوپر چلئے۔اُس نے پوچھا کیا آپ کپتان ہیں؟ بادشاہ نے کہا ذرا اور اوپر چلئے۔اب تو سپاہی خوف سے کانپنے لگا اور ادب سے پوچھا کیا آپ میجر ہیں؟ اور اسی طرح عہدے بڑھا کر پوچھتا گیا۔یہاں تک کہ جب اُس نے سوال کیا کیا کمانڈر انچیف ہیں ؟ تو اس کے دانت بج رہے تھے اور لا تیں کا نپ رہی تھیں مگر جب بادشاہ نے پھر بھی کہا کہ اوپر چلو تو چونکہ اسے معلوم تھا کہ بادشاہ بھیس بدل کر پھر ا کرتا ہے سپاہی کی لاتیں جواب دے گئیں اور وہ بے اختیار زمین پر یہ کہتے ہوئے گر گیا کہ کیا آپ زار ہیں؟ اس پر بادشاہ نے کہا ہاں اور اُسے اسی حالت میں چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔غرض دنیا کے عہدوں کی وجہ سے یا بادشاہوں اور حکام کے قرب کی وجہ سے لوگ اپنی بڑی عزت محسوس کرنے لگتے ہیں۔گاؤں کا نمبر دار ہی جب کسی نائب تحصیلدار کے پاس بیٹھتا اور اس سے باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے تو وہ خیال کرنے لگتا ہے کہ گاؤں کے تمام لوگ میرے رحم پر ہیں۔پولیس والے بھی اسی قسم کے متکبرانہ خیالات لئے ہوئے ہوتے ہیں اور اگر چہ پولیس کے افسر بعض دفعہ نرمی کرتے اور لوگوں سے اچھے اخلاق کا برتاؤ کر دیتے ہیں مگر جو اُن کے پاس بیٹھنے والے اور اُن سے اکثر ملنے جلنے والے ہیں وہ ان سے بھی زیادہ اپنی شان دکھاتے ہیں اور اس قدر بد دماغ ہوتے ہیں کہ وہ پولیس اور اس کے افسروں کے پاس بیٹھنے کی وجہ سے ہی یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ اب ہمارے سامنے سب لوگ بیچ ہیں۔جب دنیوی عہدوں پر فائز ہونے یا اعلیٰ عہدہ داروں اور افسروں کے پاس بیٹھنے کی وجہ سے لوگ عزت محسوس کرنے لگتے ہیں تو کتنے تعجب کی بات ہو گی اس قوم کے متعلق جسے خدا تعالیٰ کی آواز سننے کا موقع ملے خواہ براہِ راست سنے کا بابا لواسطہ سننے کا مگر وہ اس آواز کی قدر نہ کرے۔اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے۔السمُ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْنَا اَلَمْ عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَکَ۔اے ہمارے رسول ! کیا ہم نے تیرے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا کہ تیرے دل میں اپنی اطاعت اور فرمانبرداری کا ایک جوش پیدا کر دیا اور پھر قُرب کے حصول کے لئے بجائے اس کے کہ تجھ پر سب کوشش چھوڑ دی جاتی ، ہم نے خود الہام کے ذریعہ اپنی رضا کی راہیں تجھے بتادیں اور اس طرح تیرا بوجھ تجھ سے دور کر دیا۔کیا یہ احسان جو ہم نے تجھ پر کیا