خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 581

خطبات محمود ۵۸۱ سال ۱۹۳۵ء آکر مباہلہ کر لیں۔باقی یہ بھی میں نے سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم اپنی تقریر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ تحریریں پڑھیں گے جن میں ان کے نزدیک رسول کریم علیہ کی ہتک کی گئی ہے اور پھر قتسم کھا کر کہیں گے کہ ان سے اگر رسول کریم ﷺ کی ہتک ثابت نہیں ہوتی تو ان پر عذاب نازل ہو۔میرے نزدیک یہ بالکل درست بات ہے اور ان کا حق ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی اس قسم کی تحریریں پڑھیں۔ہیں پچیس منٹ میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایسی تحریرات پڑھ سکتے ہیں جن سے ان کے خیال میں رسول کریم ﷺ کی ہتک ثابت ہوتی ہے۔ہم ہیں چھپیں منٹ میں ان تحریروں کا جواب دے دیں گے یا ایسی تحریریں پڑھ دیں گے جن سے ان کی پیش کردہ تحریروں کی تشریح ہوتی ہو۔پس یہ ان کا حق ہے جسے ہم تسلیم کرتے ہیں۔وہ انہی تحریرات کو سامنے رکھ کر مگر اُن کے سیاق وسباق کو ساتھ ملا کر مؤکد بعذاب قسم کھا سکتے ہیں مگر یہ ضروری ہے کہ تحریریں صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہوں کسی اور احمدی کی نہ ہوں کیونکہ اور احمدیوں سے بعض دفعہ غلطی بھی ہو جاتی ہے۔اور پھر ان کی غلطیوں کی اصلاح بھی ہو جاتی ہے لیکن بہر حال دوسروں کی تحریر حجت نہیں ہو سکتی۔صرف وہی تحریر میں پیش ہونی چاہئیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذاتی ہوں کیونکہ ان کے متعلق ایک لحظہ کے لئے بھی ہمیں یہ خیال نہیں آ سکتا کہ ان میں رسول کریم ﷺ کی ہتک کی گئی ہے۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں خود اپنے کانوں سے سنیں۔آپ کے طریق عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آپ کی پاکیزہ زندگی کا روز وشب مشاہدہ کیا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات پڑھی جائیں یا نہ پڑھی جائیں ہم تو ہر تحریر کو مد نظر رکھتے ہوئے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان خیالات کو مد نظر رکھتے ہوئے جن کو ظاہر ہونے کا موقع نہیں ملا ہر وقت قسم کھانے کے لئے تیار ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رسول کریم ﷺ کی توہین نہیں کی۔بھلا آنکھوں سے دیکھنے کے بعد بھی کوئی شبہ رہ سکتا ہے۔منشی اروڑے خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشہور صحابی گزرے ہیں کپورتھلہ میں تحصیلدار تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے مولوی ثناء اللہ صاحب کپورتھلہ یا کسی قریب کے مقام پر گئے تو ان کے دوست انہیں بھی مولوی صاحب کی تقریر سنانے لے گئے۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنی تقریر میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اعتراضات کئے تو منشی اروڑے خان صاحب کے ساتھی