خطبات محمود (جلد 16) — Page 571
خطبات محمود ۵۷۱ سال ۱۹۳۵ء حکومت اچھی طرح جانتی ہے یہ بات غلط ہے یا صیح۔اگر تو صحیح ہے تو اسے چاہئے اعلان کر دے لیکن اگر غلط ہے تو اس کا فرض ہے کہ اسی طرح اس کی تردید کرے جس طرح چوہدری افضل حق صاحب کے بارہ میں ایک بیان کی کی تھی۔اور وہ واقعہ اس طرح ہے کہ کسی اخبار میں کسی شخص نے لکھا تھا کہ چوہدری افضل حق صاحب نے جا کر گورنر صاحب سے کہا ہے کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں ٹھیک کر رہے ہیں۔اس پر حکومت کی طرف سے فوراً اس کی تردید کی گئی۔سوال یہ ہے کہ چوہدری افضل حق صاحب کی عزت بچانے کے لئے تو حکومت کو اس قدر فکر ہے مگر سر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے متعلق کیوں یہ فکر نہیں حالانکہ وہ حکومت ہند کے ممبر ہیں۔پیرا کبر علی صاحب کے متعلق بھی ایسی باتیں کہی گئی ہیں اور ان کی بھی تردید نہیں کی گئی۔اور جب حکومت کی یہ حالت ہو کہ وہ احرار کی عزت کی حفاظت کیلئے تو اس قدر مستعد ہو لیکن حکومت ہند کے ایک ممبر کے متعلق اتنا بھی احساس نہ رکھتی ہو، حالانکہ دونوں کے متعلق جو بات کہی گئی وہ ایک ہی قسم کی ہے تو اس کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ چوہدری صاحب نے یہ بات کہی ہے اس لئے اس کی تردید نہیں کی گئی۔اور چوہدری افضل حق صاحب نے چونکہ نہیں کہی تھی اس کی تردید کی گئی مگر کیا یہ بات درست ہے ؟ کیا واقعہ میں سر ظفر اللہ خان صاحب نے ہز ایکسی لنسی سے ملکر کوئی ایسی بات کہی تھی ؟ لیکن چونکہ ہمارا علم یہی ہے کہ سر ظفر اللہ خان صاحب نے ہرگز ایسی بات نہیں کی پس ہم یہ سمجھنے میں مجبور ہیں کہ حکومت پنجاب کے ایک حصہ کی نظر میں حکومت ہند کے کامرس ممبر کی وہ عزت نہیں ہے جو چوہدری افضل حق صاحب کی ہے۔حکومت اس خبر کی تردید کرے یا نہ کرے میں اس کی تردید کرتا ہوں کہ ایسی کوئی بات نہ سر ظفر اللہ خان صاحب نے اور نہ کسی اور احمدی نے کہی اور اگر کوئی اسکا مدعی ہے تو میں اُسے بھی چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اس کے متعلق حلفی بیان شائع کرے اور پھر دیکھے کہ خدا تعالیٰ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے۔طه: ۴۵ الفضل ۱۹ ستمبر ۱۹۳۵ء) ل وَلَوْ لَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِمَتْ صَوَامِعُ وَبِيْعٌ وَّ صَلَوتْ وَّ مَسْجِدُ (الحج: ۴۱)