خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 560

خطبات محمود ۵۶۰ سال ۱۹۳۵ء ہماری طرف سے نہیں کی گئی اور نہ ہمیں اس کا قبل از وقت علم تھا اور نہ بعد میں ہمیں یقینی علم ہوا جو کچھ اس بارہ میں معلوم ہے صرف افواہ ہے۔پس اگر کوئی کہتا ہے کہ ہم میں سے کسی نے کسی کو ایسی بات سکھائی ہے تو وہ آئے اور خدا تعالیٰ کی قسم کھائے کہ اسے یا اور کسی کو احمد یوں نے ایسا سکھایا تھا۔اور یہ کہ اگر وہ جھوٹ بولتا ہو تو خدا تعالیٰ کا عذاب اُس پر اور اُس کے بیوی بچوں پر نازل ہو۔ہمارا طریق بادشاہ اور ان کے نمائندوں کے متعلق ادب اور احترام کا رہا ہے اور انشَاءَ اللہ رہے گا کیونکہ ہمیں ہمارے مذہب کا حکم ہے۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی طرف بھیجا تو ہدایت فرمائی کہ قُولَا لَه قَوْلًا ليسا وہ ہمارا اپنا بنایا ہوا بادشاہ ہے۔اس لئے اس سے نرم باتیں کرنا نرم۔پس اس تعلیم کے ہوتے ہوئے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم ان کے لئے جنہیں ملک معظم نے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہوا ہے خواہ ہمیں ان سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو ، اخلاق اور ادب سے گر ا ہو ا کوئی لفظ استعمال کریں۔معلوم ہوتا ہے کسی افسر نے اپنی چود ہرا ہٹ اور ہز ایکسی لنسی کو یہ کہنے کے لئے کہ حضور ! ایسی بات کہی گئی تھی مگر ہم نے اس کا ازالہ کرا دیا ہے ہم پر یہ الزام لگا دیا ہے۔مجھے تو بڑوں کا ادب کرنے کی اِس قد تلقین کی گئی تھی کہ میں اس کے خلاف چل ہی نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچیرے بھائی جس قدر مخالفت سلسلہ کی کرتے تھے وہ ظاہر ہے۔انہوں نے دیوار بنا کر مسجد کا رستہ روک دیا ، سقوں کو پانی بھرنے اور حجاموں کو حجامت بنانے سے منع کر دیا ، کمہاروں کو منع کر دیا کہ ان کے لئے برتن نہ بناؤ۔اور بھی طرح طرح کے ظلم کرتے رہتے تھے لیکن باوجود اس کے بچپن میں میں نے ایک دفعہ میرزا نظام الدین صاحب کے متعلق کوئی بات کرتے ہوئے صرف نظام الدین کہہ دیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سخت ناراض ہوئے اور فرمایا وہ تمہارے چچا ہیں، تمہارے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس طرح اُن کا نام لو۔پس جن لوگوں کو بچپن سے یہ تعلیم دی جا رہی ہو وہ ہز ایکسی لنسی کے متعلق ایسے الفاظ استعمال ہی کیسے کروا سکتے ہیں۔بچپن سے میں تقریریں کرتا ہوں اور کتابیں لکھتا رہا ہوں۔تقریریں بھی چھپی ہوئی ہیں ، اشتہار اور ٹریکٹ وغیرہ بھی میری طرف سے چھپتے رہتے ہیں۔لیکن کیا کوئی یہ بات ثابت کر سکتا ہے کہ میں نے شدید سے شدید مخالف کا نام بھی اس رنگ میں لیا ہے جس میں بے ادبی پائی جاتی ہو۔مولوی ثناء اللہ صاحب ہمارے کتنے مخالف ہیں مگر کوئی نکال کر تو دکھائے کہ میں نے کبھی انہیں صرف ثناء اللہ ہی کہا ہو۔مولوی ظفر علی