خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 544

خطبات محمود ۵۴۴ سال ۱۹۳۵ء جاتے اسی طرح ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام پر ایمان لا کر رسول کریم ﷺ کے باغی نہیں ہو جاتے۔پھر ہم مدینہ منورہ کی عزت کر کے خانہ کعبہ کی ہتک کرنے والے نہیں ہو جاتے۔اسی طرح ہم قادیان کی عزت کر کے مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ کی توہین کرنے والے نہیں ہو سکتے۔خدا تعالیٰ نے ان تینوں مقامات کو مقدس کیا اور ان تینوں مقامات کو اپنی تجلیات کے اظہار کے لئے چنا۔بیت اللہ کو خدا تعالیٰ نے حج کے لئے چنا جس کے سوا اس دنیا میں قیامت تک اور کوئی حج کی جگہ نہیں۔مدینہ منورہ کو خدا تعالیٰ نے رسول کریم اللہ کی ذات کے لئے چنا۔اور اب خدا تعالیٰ نے رسول کریم کے دوسرے روحانی ظہور کے لئے اور اپنے مسیح و مہدی کے مقام نزول کے لئے قادیان کو چنا۔نہ حج کسی اور جگہ پر کیا جا سکتا ہے نہ رسول کریم ﷺے دوبارہ دنیا میں آ سکتے ہیں اور کسی اور شہر کو آپ کی جائے سکونت ہونے کا فخر حاصل ہو سکتا ہے اور نہ مسیح و مہدی اب دوبارہ آ سکتے ہیں۔پس ان دوبستیوں کو چھوڑ کر قادیان کے برابر دنیا کی اور کوئی بستی نہیں۔لیکن مکہ ومدینہ قادیان سے بھی بلندشان رکھنے والے ہیں۔جس خدا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غیرت دکھائی تھی، اُسی خدا نے اپنی طاقتوں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دشمنوں کو نیچا دکھایا اور اُسی خدا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مخالفین کو غرق کیا لیکن رسول کریم ﷺ کی مدد کرنے کے ہرگز یہ معنی نہیں تھے کہ حضرت موسیٰ ،حضرت عیسی اور دیگر انبیاء علیھم السلام کی خدا تعالیٰ نے مدد نہیں کی تھی۔اسی طرح مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت اور انہیں اپنے جلال کے اظہار کے لئے مخصوص کر لینے کے ہرگز یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ کوئی اور مقام خدا تعالیٰ کا فضل جذب نہیں کر سکتا۔ہمارا خدا وسیع طاقتوں اور قدرتوں والا خدا ہے اُس کے خزانے کبھی خالی نہیں ہوتے اور اُس کی فوجیں انسانی شمار سے باہر ہیں۔وہ جس طرح ایک مقام کی حفاظت کر سکتا ہے اسی طرح دوسرے مقام کی بھی اپنی فوجوں سے محافظت کر سکتا ہے۔میں چھوٹا تھا کہ میں نے رویا دیکھا کہ ایک مصلی ہے جس پر میں نماز پڑھ کے بیٹھا ہوں اور میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے جس کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ وہ شیخ عبد القادر صاحب جیلانی کی ہے اور اس کا نام منہاج الطالبین ہے یعنی خدا تعالیٰ تک پہنچنے والوں کا رستہ۔میں نے اس کتاب کو پڑھ کر رکھ دیا۔پھر یکدم خیال آیا کہ یہ کتاب حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کو دینی ہے اس لئے میں اسے ڈھونڈھنے لگا مگر وہ ملتی نہیں۔ہاں اسے ڈھونڈھتے ڈھونڈھتے ایک اور کتاب مل گئی۔اُس وقت میری