خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 543

خطبات محمود ۵۴۳ سال ۱۹۳۵ء میں ہو اور قادیان بھی خطرہ میں ہو اور دونوں میں سے ایک کو بچایا جا سکتا ہو تو ہم ایک منٹ بھی اس مسئلہ پر غور نہیں کریں گے کہ کس کو بچایا جائے بلکہ بغیر سوچے کہہ دیں گے کہ خانہ کعبہ کو بچانا ہمارا اولین فرض ہے پس قادیان کو ہمیں خدا تعالیٰ کے حوالے کر دینا چاہئے۔خود رسول کریم ﷺ نے خانہ کعبہ کے بعد مدینہ کے لئے دعا کی اور کہا اے میرے ربّ! جیسے حضرت ابرا ہیم نے مکہ کے لئے برکت چاہی تھی ، میں تجھ سے مدینہ کے ناپوں اور پیمانوں میں برکت چاہتا ہوں اور جیسے وہاں ایک حصہ کو حرم قرار دیا گیا ، اسی طرح میں بھی مدینہ کے ایک حصہ کو حرم بنا تا ہوں اور جس طرح وہاں شکار اور فسادا اور قتل و خون ریزی کی ممانعت ہے اسی طرح میں بھی مدینہ کے ایک علاقہ میں شکار ، فساد اور قتل وخون ریزی منع کرتا ہوں۔مگر کیا کوئی نادان کہہ سکتا ہے کہ یہ دعا مانگ کر رسول کریم ﷺ مکہ معظمہ کی بہتک کرنا چاہتے تھے ؟ مدینہ کو مکرم بنانے کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ مکہ معظمہ کی عزت کم ہے۔اسی طرح قادیان کو عزت دینے کے بھی ہرگز یہ معنی نہیں کہ ہمارے دلوں میں خانہ کعبہ یامدینہ منورہ کی عزت نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ مکہ وہ مقدس مقام ہے جس میں وہ گھر ہے جسے خدا نے اپنا گھر قرار دیا اور مدینہ وہ بابرکت مقام ہے جس میں محمد ﷺ کا آخری گھر بنا، جس کی گلیوں میں آپ چلے پھرے اور جس کی مسجد میں اس مقدس نبی نے جو سب نبیوں سے کامل نبی تھا اور سب نبیوں سے زیادہ خدا کا محبوب تھا، نمازیں پڑھیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں۔اور قادیان وہ مقدس مقام ہے جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات مقدسہ کا خدا تعالیٰ نے دوبارہ حضرت مرزا صاحب کی صورت میں نزول کیا۔یہ مقدس ہے باقی سب دنیا سے مگر تابع ہے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے۔پس وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ اگر خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے تو احمدی خوش ہوں گے وہ جھوٹ بولتا ہے ، وہ افتر ا کرتا ہے اور وہ ظلم و تعدی سے کام لے کر ہماری طرف وہ بات منسوب کرتا ہے جو ہمارے عقائد میں داخل نہیں اور ہم اس شخص سے کہتے ہیں۔لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ۔قادیان کو خدا تعالیٰ نے دنیا میں اس لئے قائم کیا ہے کہ تا مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی عظمت کو اس کے ذریعہ دوبارہ قائم کیا جائے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے اس لئے بھیجا کہ تا آپ رسول کریم ﷺ کی اس عزت کو جو لوگوں کے قلوب سے محو ہو چکی تھی ، دوبارہ قائم کریں اور آپکے نام کی بڑائی ظاہر کریں۔ہم رسول کریم ﷺ پر ایمان لا کر خدا تعالیٰ کے منکر نہیں ہو