خطبات محمود (جلد 16) — Page 491
خطبات محمود ۴۹۱ سال ۱۹۳۵ء اپنی تنظیم کو وسیع کرو اس کے دو ذرائع ہو سکتے ہیں۔اس وقت ہماری جو مخالفت ہو رہی ہے اس کے ہوتے ہوئے امید نہیں کی جاسکتی کہ دوسرے لوگ سیاسی کام کے لئے بھی ہماری ایسی مجالس میں شریک ہو جائیں گے جن کا مقصد یہ بھی ہو کہ سلسلہ احمدیہ کی حفاظت کی جائے۔ہو سکتا ہے بعض لوگ شامل ہو بھی جائیں مگر بہت کم ہو نگے اس لئے میں دو تجویز میں بتا تا ہوں ایک تو یہ کہ جہاں جہاں جماعتیں ہیں وہ اپنے اپنے ہاں لیگیں قائم کریں لیکن اس طرح دوسرے لوگ چونکہ کم شامل ہو نگے اس لئے دوسری تجویز یہ ہے کہ ان کی ایک اور اقتصادی شاخ قائم کی جائے جو نیشنل لیگ کے عام نظام سے الگ ہو اور اس کا کام مصیبت زدوں سے ہمدردی ہو مثلاً اس وقت زمیندار بے چارے سخت مصیبت میں ہیں ، ان کی اقتصادی حالت اچھی نہیں ، وہ قرضوں کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے ہیں مگر حکومت سب سے کم توجہ ان کی طرف کرتی ہے۔لائل پور میں زمیندارہ کا نفرنس ہوئی تھی تو اس کے لئے میں نے ایک مضمون لکھا تھا گورنمنٹ نے اس کے وہ حصے جو اس کے مفید مطلب تھے کسی اور کے نام سے ہزار ہا کی تعداد میں شائع کر کے تقسیم کئے تھے اسی طرح دوسرے لوگوں نے بھی اپنے اپنے مفید مطلب حصص علیحدہ علیحدہ شائع کئے تھے اور اس طرح اس کی اشاعت ملک میں کئی لاکھ کی ہو گئی تھی۔اس میں زمینداروں کی ترقی کی بعض تجاویز تھیں جن پر اگر عمل کیا جائے تو زمینداروں کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔پس ایک سب کمیٹی ایسی بنائی جائے جس کا کام ہی یہ ہو کہ ویسی ہی کمیٹیاں مختلف مقامات پر قائم کرے اس میں ہر قوم وملت کے لوگ شامل ہو سکتے ہیں۔جب میرا مضمون زمیندارہ کا نفرنس لائل پور میں پڑھا گیا تو بعض علاقوں سے سکھوں نے یہ خواہش کی کہ اگر آپ راہنمائی کریں تو ہم کام کرنے کے لئے تیار ہیں مگر چونکہ صرف سکھوں کی طرف سے اس پر عمل نقصان دہ ہو سکتا تھا کیونکہ جب تک پورے طور پر اعتماد نہ ہو کام نہیں چل سکتا اس لئے یہ تحریک نہ چل سکی سوائے اس کے کہ اضلاع را ولپنڈی اور کیمبل پور کے زمینداروں کے ایک بڑے مجمع میں جس کی تعداد میں ہزار بتائی جاتی ہے وہ مضمون پڑھا گیا اور پاس کیا گیا کہ اس کے بغیر ہماری ترقی محال ہے پس ایسی سب کمیٹیوں میں جن کا کسی سیاسی پر وگرام سے تعلق نہ ہو ہندو اور سکھ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔پنجاب کے ہندو یہ سمجھتے ہیں کہ جو تحریک زمینداروں کے فائدہ کے لئے ہو اس سے صرف مسلمان ہی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں حالانکہ دوسرے صوبوں میں سب بڑے بڑے زمیندار ہندو ہیں اگر ایک صوبہ میں یا اگر سرحد کو بھی شامل کر لیا