خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 490

خطبات محمود ۴۹۰ سال ۱۹۳۵ء نہیں سکتے ، میری طاقت اس سے بہت زیادہ ہے جو خیال کی جاتی ہے اور اس کے اظہار کے لئے اُس نے سر کو کھڑ کی کی طرف ذرا سی جنبش دی جسے دیکھتے ہی اُس طرف کے دونوں پہریداروں نے چالیس پچاس فٹ کی بلندی سے اپنے آپ کو نیچے گرا دیا اور بالکل ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔اس پر اُس نے کہا یہ مت خیال کرو کہ یہ لوگ اپنے انجام سے واقف نہ تھے اور اس کا ثبوت پیش کرنے کے لئے اس نے سر کو دوسری طرف جنبش دی اور اس پر اُس طرف کے پہریداروں نے بھی اپنے آپ کو یکدم نیچے گرا دیا اور گرتے ہی مر گئے۔عیسائی بادشاہ تو یہ دیکھ کر اس قد رگھبرایا کہ اس نے کہا اس وقت میری طبیعت خراب ہے میں سفیر کے ذریعہ بات چیت کروں گا لیکن اس قدر بڑی قربانیوں کے باوجود باطنیوں نے چونکہ ناجائز ذرائع اختیار کئے ، اس لئے وہ کوئی بڑا کارنامہ نہ کر سکے۔پس کامیابی کے لئے ایک طرف تو باطنیوں سے زیادہ قربانی کی روح چاہئے۔رسول کریم ﷺ نے جب صحابہ کرام سے دریافت کیا کہ جنگ کے بارہ میں ان کی کیا رائے ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ سامنے سمندر ہے حضور حکم دیں تو ہم گھوڑے سمندر میں ڈال دیں۔حالانکہ سمندر میں گھوڑا ڈالنے پر کسے خیال ہو سکتا تھا کہ وہ دوسرے ساحل پر جا پہنچے گا۔اس کا مطلب یقینی موت تھی مگر صحابہ اس پر بالکل آمادہ تھے پس ایک طرف تو یہ روح ضروری ہے اور دوسری طرف نیکی بھی ضروری ہے۔جب تک انسان نیکی اختیار نہ کرے اُس وقت تک وہ افسردگی اور افسوس تو پیدا کر سکتا ہے مگر ہمدردی نہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو جماعتیں قائم ہوتی ہیں ان کا فرض یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کو اپنے ساتھ شامل کریں اور افسردگی و افسوس پیدا کر دینے سے کوئی قریب نہیں آتا بلکہ لوگ دُور بھاگتے ہیں۔مؤمن کا کام یہ ہے کہ ایسے ذرائع اختیار کرے کہ دل اس کی طرف مائل ہوں پس تم بدلہ لو مگر ایسی شرافت سے کہ دنیا یہ سمجھے کہ انہوں نے جو کچھ کیا ہے خود حفاظتی کے لئے کیا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور جسے دیکھ کر ہر شخص کہہ اُٹھے کہ یہ ایسا نمونہ ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔پس پہلی بات تو یہ ہے کہ اچھے لیڈر ہوں اور ایسے لیڈر تلاش کرو جن پر تمہیں یقین اور اعتماد ہو اور پھر ان کو قربان کرنے کی کوشش نہ کرو۔اگر کوئی منافق آ کر کہے کہ یہ پیچھے رہتے ہیں تو اس سے کہہ دو کہ انہیں پیچھے ہی رہنا چاہئے بلکہ اگر وہ آگے آنا چاہیں تو بھی ہم انہیں آگے نہ آنے دیں گے۔تیسرے یہ کہ جو ذرائع اختیار کرو وہ نیکی اور تقویٰ کے ذرائع ہوں۔چوتھی نصیحت میں یہ کرتا ہوں کہ