خطبات محمود (جلد 16) — Page 479
خطبات محمود ۴۷۹ سال ۱۹۳۵ء کام کرتی ہے۔اگر کانگرس یہ معاہدہ کر لے کہ وہ قانون شکنی کا کوئی معاملہ ہمارے سامنے پیش نہیں کرے گی تو تم اس میں بے شک شامل ہو جاؤ اور ملک اور قوم کی خدمت کرو۔اصل بات یہ ہے کہ قوت ارادی کے مضبوط ہونے کے بعد کوئی چیز انسان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔کانگرس کو اگر نقصان پہنچا ہے تو محض قوتِ ارادی کی کمزوری کی وجہ سے۔مثلاً اس نے تحریک شروع کی کہ انگریزی چیزوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔اب اس کے لئے لوگوں کے آگے ہاتھ جوڑے جا رہے ہیں ، پاؤں پڑ رہے ہیں، رستوں میں لیٹ رہے ہیں اور کہتے ہیں خدا کے لئے انگریزی چیزیں نہ خریدو۔میں نے بار ہا بیان کیا ہے کہ یہ عدم تشدد نہیں بلکہ تشدد ہے۔ہمارا حق ہے کہ ہم منہ سے لوگوں کو سمجھا ئیں اور کہیں کہ ان چیزوں کے خریدنے کے یہ یہ نقصان ہیں۔مگر یہ کہ ہم راہ چلتے لوگوں کا رستہ روک لیں یہ تشدد ہے خواہ ہم لوگوں کے ٹھڈے ہی کیوں نہ کھائیں لیکن قوت ارادی یہ تھی کہ وہ کہتے ہم خود کبھی انگریزی چیزیں استعمال نہیں کریں گے اور لوگوں کو بھی اس کے فوائد بتلاتے رہتے۔کونسا قانون ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم ضرور انگریزی چیزیں خریدیں۔پس اگر ملک میں یہ روح پیدا کر دی جاتی کہ اپنے ملک کی بنی ہوئی چیزیں استعمال کرنے میں ہی فائدہ ہے تو نہ تشدد کی ضرورت ہوتی اور نہ لوگوں کے پاؤں پڑنے اور ستیہ گرہ کے کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی۔آسانی سے خود بخو دلوگ اس کی طرف مائل ہو جاتے۔نقصان پہنچانے والی اصل بات یہ ہے کہ تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ فلاں حق کے حاصل کرنے کے لئے قانون شکنی کی ضرورت ہے۔مجھے ان لوگوں پر ہمیشہ ہنسی آتی ہے جو کہا کرتے ہیں کہ قانون شکنی کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا۔قانون شکنی ایک بلا ہے، ایک مصیبت ہے ، ایک لعنت ہے اور یقینی طور پر قانون کے اندر رہتے ہوئے ہم اپنے حقوق کو حاصل کر سکتے ہیں۔گو بعض دفعہ حق کے حاصل کرنے میں دیر ہو جائے۔اگر قانون شکنی کی وجہ سے ایک حق ہمیں سال میں حاصل ہوسکتا ہو اور قانون کی پابندی کر کے دو یا تین سال میں تو میں کہوں گا کہ دو یا تین سال قانون کے ماتحت کوشش کرو مگر قانون شکنی کے قریب بھی مت جاؤ۔پس اپنے مذہبی اصول کو کبھی مت چھوڑو ہمارے اصول خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور ان کی پابندی سے ہی تم اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہو۔اپنے طور پر بھی اگر مجھے کبھی خیال آیا تو میں تمہاری رہنمائی کرتا رہوں گا مگر میں یہ پسند نہیں کرتا کہ تم بات بات میں مجھ سے مشورہ لو اور میرا وقت ضائع کرو۔